سپریم کورٹ نے ڈکیتی کے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کردی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
سپریم کورٹ نے ڈکیتی کے ملزم شہباب الدین کی ضمانت کی درخواست خارج کردی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل پر 2 لاکھ ریال کی ڈکیتی کا الزام ہے جبکہ 2 گواہوں نے عدالت میں شناخت سے انکار کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سابق ایم این اے رمیش کمار کے گھر ڈکیتی، ڈکیت ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کا سامان لے گئے
تاہم عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم سے 80 ہزار ریال برآمد ہوئے ہیں۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ 2 لاکھ ریال کی ڈکیتی ہوئی اور ملزم سے 80 ہزار ریال ریکور ہو گئے، یہ کوئی معمولی بات نہیں۔
ڈکیتی کا شکار شخص تو ڈکیتوں کے سامنے سر نہیں اٹھا سکتا، ایسے وقت میں انسان کو اپنی جان کی فکر ہوتی ہے۔
جسٹس شہزاد ملک نے ریمارکس دیے کہ مدعی کی ملزم کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی، اگر دشمنی ہوتی تو وہ ایف آئی آر میں براہِ راست نامزد کرتا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا میں 2 منٹ میں 2 ملین ڈالر مالیت کے زیورات کی ڈکیتی
عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم شہباب الدین کی ضمانت کی درخواست خارج کر دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈکیتی ڈکیتی کا ملزم ریال سپریم کورٹ ضمانت مسترد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈکیتی ڈکیتی کا ملزم ریال سپریم کورٹ
پڑھیں:
زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سال 2026 کے لیے موسم گرما کی تعطیلات سے متعلق بڑا انتظامی فیصلہ کرلیا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق عدالتی کارکردگی میں بہتری اور زیر التوا مقدمات کے جلد از جلد فیصلوں کو یقینی بنانے کے لیے تعطیلات کا نیا شیڈول مرتب کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اہم فیصلہ چیف جسٹس پاکستان کی درخواست اور ججز کے درمیان باہمی مشاورت کے بعد کیا گیا۔
نئے انتظامات کے تحت سپریم کورٹ کے ججز نے موسم گرما کی تعطیلات کے دوران اسلام آباد میں واقع پرنسپل سیٹ پر کام کے دورانیے میں اضافے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔
اعلامیے کے مطابق ماضی کی روایت کے برعکس اس بار سپریم کورٹ کی برانچ رجسٹریوں میں ججز کے بیٹھنے کے وقت میں کمی کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
تاہم ججز کی جانب سے اصل میں حاصل کی جانے والی تعطیلات کا دورانیہ گزشتہ برسوں کی طرح 4 ہفتے ہی برقرار رہے گا۔
سپریم کورٹ کے اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ نئے انتظامات کا بنیادی مقصد تعطیلات کے دوران بھی ججز کی دستیابی کو یقینی بنانا اور مقدمات کی سماعت کے عمل کو بلا تعطل جاری رکھنا ہے تاکہ زیر التوا کیسز کے بروقت فیصلوں میں مدد مل سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews انتظامی فیصلہ تعطیلات سپریم کورٹ وی نیوز