راولپنڈی:

سانحہ 9 مئی اور جی ایچ کیو حملہ سمیت 12 اہم مقدمات کی سماعت آج انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہونا تھی، تاہم جج امجد علی شاہ کی میڈیکل رخصت کے باعث تمام کیسز بغیر کسی کارروائی کے 17 ستمبر تک ملتوی کر دیے گئے۔

عدالت کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق، آج ان مقدمات کی جیل ٹرائل ہونا تھا، مگر ایک بار پھر جیل ٹرائل مؤخر کر دیا گیا اور سماعت راولپنڈی کی کچہری عدالت میں ہوئی، جہاں صرف حاضری لگائی گئی۔

سرکاری پراسیکیوٹر ظہیر علی شاہ، وکلائے صفائی ملک فیصل ایڈووکیٹ اور حسنین سنبل ایڈووکیٹ عدالت پہنچے، جبکہ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد بھی سماعت کے موقع پر موجود تھے۔

عدالت نے تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں عمر ایوب اور شبلی فراز کو گرفتار کر کے آج پیش کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم کیس پر کوئی مزید کارروائی نہ ہو سکی۔

جی ایچ کیو حملہ کیس میں مجموعی طور پر 119 گواہان کی فہرست موجود ہے، لیکن اب تک صرف 27 کے بیانات قلمبند کیے جا سکے ہیں۔ دیگر 11 مقدمات میں جی ایچ کیو گیٹ 4 پر حملے کا کیس بھی شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق، اگلی سماعت پر جج کی دستیابی کی صورت میں باقاعدہ کارروائی شروع ہونے کی توقع ہے، جبکہ سیکیورٹی اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث جیل ٹرائل کی تاریخ ایک بار پھر غیر یقینی کا شکار ہو گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جی ایچ کیو

پڑھیں:

بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی

سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران