امریکی عدالت نے کیلیفورنیا میں نیشنل گارڈز کی تعیناتی پر پابندی لگا دی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
ایک وفاقی امریکی جج نے کیلیفورنیا میں نیشنل گارڈز کی تعیناتی پر ریاستی اجازت کے بغیر پابندی عائد کر دی ۔
خبر رساں اداروں کے مطابق عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کو سختی سے ہدایت دی ہے کہ وہ کیلیفورنیا میں نیشنل گارڈز کو ریاست کی منظوری کے بغیر تعینات نہ کرے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریاستی خودمختاری کا احترام ناگزیر ہے۔
وفاقی حکومت کا یہ اقدام آئینی اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہوگا۔
نیشنل گارڈز کی تعیناتی صرف ہنگامی حالات یا ریاستی حکومت کی باقاعدہ درخواست پر ہی ممکن ہے۔
کیلیفورنیا کی حکومت نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی مداخلت ناقابل قبول ہے، اور یہ کوشش ریاستی اختیارات محدود کرنے کی ایک مثال تھی۔
فی الوقت ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عدالت کے فیصلے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔