کراچی:

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی کالاباغ ڈیم بنانے کی تجویز پر ردعمل دیتے ہوئے اس کی سخت مخالفت کردی۔

پی پی پی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے کالا باغ ڈیم بنانے کی تجویز پر اہم بیان میں کہا کہ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخواہ صوبے کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرچکے ہیں، جس خیبرپختونخواہ صوبے کی اسمبلی کالاباغ ڈیم کے خلاف قرارداد منظور کرچکی ہے اس صوبے کا وزیراعلیٰ کالاباغ ڈیم کی حمایت میں بات کرکے ایوان کی توہین کر رہے ہیں۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ علی امین گنڈا پور کو سیاست سیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ انہیں کالاباغ  ڈیم کی حمایت سے قبل سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے، علی امین گنڈاپور کو کالاباغ ڈیم کے خلاف قرارداد کی منظوری کا پتا ہی نہیں شاید اس وقت وہ سیاست میں بھی نہیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور عمران خان کالاباغ ڈیم اور صوبوں کے حامی ہیں، سندھ میں جو عمران خان کے حمایت کرنے والے ہیں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ عمران خان چاہتا ہے کہ کالا باغ ڈیم بنے مگر سندھ والے دریائے سندھ پر اور پانی پر جان دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ کو کسی صورت کالاباغ ڈیم قبول نہیں، کالا باغ ڈیم کی بات کرنے والوں سے یہ پوچھا جائے کہ بھاشا ڈیم پر قرضہ لیا وہ بھاشا ڈیم ابھی تک کیوں نہیں بنا، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے تین سالہ دور میں دیا مر، مہمند ڈیم کیوں نہیں مکمل کیے۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ کالاباغ ڈیم سندھ کو بنجر بنانے اور ہمیں بھوکا مارنے کا منصوبہ ہے، کالاباغ ڈیم کی حمایت کرنے سے اب پی ٹی آئی کا اصل چہرہ سامنے آگیا ہے۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کالا باغ ڈیم کالاباغ ڈیم باغ ڈیم کی کہا کہ

پڑھیں:

پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا