وزیراعظم کا بیجنگ سے سیلابی صورتحال پر جائزہ اجلاس، ریسکیو و ریلیف سرگرمیوں میں تیزی کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چین کے دورے کے دوران بیجنگ سے ویڈیو لنک کے ذریعے سیلابی صورتحال اور امدادی سرگرمیوں سے متعلق ایک ہنگامی اجلاس کی صدارت کی۔ وزیراعظم نے ملک میں جاری مون سون اسپیل اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر اپنی مصروفیات وقتی طور پر ترک کرکے ریسکیو و ریلیف اقدامات کا خود جائزہ لیا۔
اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے، پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کے چیف سیکریٹریز اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے وزیراعظم کو موجودہ سیلابی حالات، ریسکیو آپریشنز اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
وزیراعظم نے این ایچ اے اور وزارت توانائی کو ہدایت دی کہ سیلاب سے متاثرہ سڑکوں اور بجلی کی ترسیل کے نظام کی بحالی کو ترجیح دی جائے تاکہ متاثرہ عوام کی مشکلات میں جلد کمی لائی جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی بروقت امداد، ان کی محفوظ مقامات پر منتقلی اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے وفاق، صوبے اور تمام ادارے مکمل ہم آہنگی سے کام جاری رکھیں۔”
انہوں نے پنجاب اور سندھ میں شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے، چیئرمین این ڈی ایم اے کو صوبائی حکومتوں اور پی ڈی ایم ایز سے مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔
سیلابی ریلوں کی نگرانی اور ممکنہ خطرات
اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ دریائے راوی، چناب اور ستلج میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ترمّو، بلوکی، سدھنائی، جی ایس والا اور سلیمانکی کے مقامات پر شدید طغیانی کی صورتحال درپیش ہے۔
این ڈی ایم اے اور متعلقہ صوبائی ادارے ان خطرات سے نمٹنے کے لیے بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ:
پنجند کے مقام پر سیلابی ریلا شدت اختیار کر رہا ہے، جو 6 ستمبر کی دوپہر تک گڈو بیراج پہنچنے کا امکان ہے۔
سندھ میں گڈو بیراج پر متوقع صورتحال کے پیش نظر این ڈی ایم اے اور سندھ حکومت مکمل تیاری کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
ریسکیو 1122، پاک فوج، رینجرز، غیر سرکاری تنظیمیں اور پی ڈی ایم ایز مشترکہ طور پر سرگرم عمل ہیں۔
امدادی سامان کے قافلے مسلسل متاثرہ علاقوں میں بھیجے جا رہے ہیں۔
متاثرہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی اور متاثرہ نظام کی بحالی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
بیجنگ میں موجود اجلاس میں وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ شریک تھے، جبکہ پاکستان میں موجود چیئرمین این ڈی ایم اے اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ لاپتہ شہریوں کی تلاش کے لیے اقدامات تیز کیے جائیں اور کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: متاثرہ علاقوں میں ڈی ایم اے اجلاس میں اے اور
پڑھیں:
سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
سوات (ڈیلی پاکستان آن لائن) سوات کے مختلف علاقوں میں چھتیں منہدم ہونے کے دو الگ الگ واقعات میں بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق جبکہ 3 زخمی ہوگئے۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق چارباغ کے علاقے گنڈھیرئی میں ایک گھر کی چھت اچانک گر گئی، جس کے نتیجے میں 8 سالہ شیما اور 6 سالہ مناہل جاں بحق ہوگئیں، جبکہ حورین اور ان کی والدہ زخمی ہوئیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 سوات کی ڈیزاسٹر ریسپانس اور میڈیکل ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔
مقامی افراد نے ملبے تلے دبے چار افراد کو نکال لیا تھا، جنہیں ریسکیو اہلکاروں نے طبی امداد فراہم کی۔ زخمیوں کو مزید علاج کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال منگلور منتقل کر دیا گیا جبکہ جاں بحق بچیوں کی لاشیں بھی اسپتال منتقل کر دی گئیں۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
دوسری جانب کالام کے علاقے بلوگا میں ایک کچے ہوٹل کے کمرے کی چھت گرنے سے 32 سالہ وقاص جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والے شخص کا تعلق ملاکنڈ سے بتایا جاتا ہے۔
ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال کالام منتقل کر دیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق دونوں واقعات کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
اس سے قبل، شانگلہ کے علاقے کوزہ الپوری، رحیم آباد میں ایک گھر میں کمرے کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق جبکہ ایک بچی زخمی ہوگئی تھی۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :