نان کسٹم گاڑی ضبطگی کیس، سپریم کورٹ نے ممبر کسٹم سے تفصیلی جواب طلب کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
سپریم کورٹ نے سابقہ فاٹا میں نان کسٹم گاڑی تحویل میں لینے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ممبر کسٹم سے تفصیلی جواب طلب کر لیا۔ سماعت چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔
عدالت کی ریمارکسسماعت کے دوران چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ کارروائی میں ’پک اینڈ چوز‘ نہیں ہونا چاہیے، عدالت یہ جاننا چاہتی ہے کہ کسٹم حکام اس حوالے سے کیا طریقہ کار اختیار کر رہے ہیں۔
جسٹس محمد شفیع صدیقی نے کہا کہ جب مقررہ وقت ختم ہو گیا تو نان کسٹم گاڑیوں کے مالکان کو کیا کرنا تھا، اس کا جواب دینا ضروری ہے۔
کسٹم حکام کا مؤقفممبر کسٹم سعید اکرم نے عدالت کو بتایا کہ نان کسٹم گاڑیوں کے لیے کوئی ایمنسٹی اسکیم نہیں ہے اور نہ ہی اس معاملے میں کسی کے ساتھ غیر مساوی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔
عدالت نے ممبر کسٹم سے تحریری اور تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 23 ستمبر تک ملتوی کر دی۔
یہ مقدمہ درخواست گزار عزیز اللہ کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ کسٹم حکام نے ان کی نان کسٹم گاڑی تحویل میں لے لی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سپریم کورٹ ممبر کسٹم سعید اکرم نان کسٹم پیڈ یحییٰ آفریدی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ ممبر کسٹم سعید اکرم نان کسٹم پیڈ یحیی ا فریدی
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔