ڈونلڈ ٹرمپ کا وینزویلا سے آنے والی کشتی پر حملے، 11 منشیات فروشوں کی ہلاکت کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کی فوج نے وینزویلا سے منشیات اسمگل کرنے والے ایک کشتی پر حملہ کیا ہے جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے۔
ٹرمپ نے منگل کے روز اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر اس حملے کی فضائی فوٹیج شیئر کی جسے مبینہ طور پر ٹرن دے اراگوا نامی گینگ استعمال کر رہی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، ٹرمپ نے بحری جہاز تعینات کردیے
انہوں نے لکھا کہ اس کارروائی میں 11 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ کسی امریکی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا۔ یہ پیغام ان سب کے لیے ہے جو امریکا میں منشیات لانے کا سوچ بھی رہے ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق یہ بمباری منگل کی صبح کی گئی اور اس سے وینزویلا کی حکومت کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ٹرمپ کئی بار صدر نکولس مادورو پر بغیر شواہد کے الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہوں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔
????????♂️ The Americans struck a boat off the coast of Venezuela that, as they say, was transporting drugs from a certain drug cartel that enjoys the patronage of Maduro himself.
— big ben (@alternative_war) September 2, 2025
ٹرمپ نے اس کارروائی کا انکشاف اوول آفس میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران اچانک کیا جہاں وہ امریکی اسپیس کمانڈ کے نئے ہیڈکوارٹر کے حوالے سے بات کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ اور نائب صدر جے ڈی وینس بھی موجود تھے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ابھی چند منٹ پہلے ہم نے ایک کشتی کو نشانہ بنایا، یہ منشیات سے بھری ہوئی کشتی تھی جو وینزویلا سے نکلی تھی۔ آپ اسے دیکھیں گے اور اس بارے میں مزید پڑھیں گے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی تصدیق کی کہ یہ کارروائی جنوبی کیریبین میں ہوئی تاہم مقام کی مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا نے وینزویلا کے صدرکی گرفتاری کے لیےانعامی رقم 50 ملین ڈالرکردی
رائٹرز کے مطابق اس وقت 7 امریکی جنگی جہاز اور ایک ایٹمی آبدوز کیریبین خطے میں موجود ہیں یا پہنچنے والی ہیں جن میں 4,500 سے زائد ملاح اور امریکی میرینز شامل ہیں۔
دوسری جانب صدر مادورو نے امریکی موجودگی کے جواب میں وینزویلا کے جنگی جہاز اور ڈرونز ساحل پر تعینات کر دیے ہیں جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھنے لگی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔