سی ٹی ڈی نے کوئٹہ دھماکے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا ہے۔

کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ شاہوانی گراؤنڈ کے قریب گزشتہ شب ہونے والے خودکش دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 15 ہوگئی جبکہ 38 افراد زخمی حالت میں مختلف اسپتالوں میں منتقل کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیے: کوئٹہ میں بی این پی کے جلسے کے بعد دھماکا، اختر مینگل بال بال بچے

سول اسپتال کے حکام کے مطابق زخمیوں میں سے 6 کو سی ایم ایچ منتقل کیا گیا، 15 افراد کو طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا جبکہ 9 مریض زیر علاج ہیں۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق دھماکے کے متاثرین پر اب تک 6 بڑے آپریشن بھی کیے جا چکے ہیں۔

ادھر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے واقعے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا ہے۔ ترجمان کے مطابق مقدمہ قتل، اقدامِ قتل اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ہوا ہے جبکہ خودکش حملہ آور کے جسمانی اعضا فرانزک کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔

دھماکے کے بعد بلوچستان بار کونسل نے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ اپنے بیان میں بار کونسل کا کہنا تھا کہ بلوچستان طویل عرصے سے دہشت گردی کا شکار ہے، سیاسی قوتوں کو باہمی نفرت کے بجائے رواداری اور محبت کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

بار کونسل نے کہا کہ سیاسی جماعت کے جلسے پر حملہ دراصل پرامن عوام کو آگ و خون میں دھکیلنے کی سازش ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بار کونسل سریاب دھماکا کوئٹہ دھماکا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بار کونسل سریاب دھماکا کوئٹہ دھماکا بار کونسل

پڑھیں:

ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی

واشنگٹن: امریکا کی ریاست آئیووا کے شہر مسکیٹین میں ایک افسوسناک فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص نے اپنے ہی خاندان کے 6 افراد کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرلی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ واقعہ پیر کے روز مشرقی آئیووا کے شہر مسکیٹین میں پیش آیا، جو دریائے مسیسیپی کے کنارے واقع ہے۔

پولیس کے ابتدائی بیان کے مطابق واقعے کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ فائرنگ کا تعلق ایک گھریلو یا خاندانی تنازع سے تھا، تاہم حکام نے ابھی تک تنازع کی نوعیت یا اس کے پس منظر کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔

پولیس کو دوپہر کے وقت فائرنگ کی اطلاع موصول ہوئی، جس کے بعد اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے تو ایک گھر کے اندر چار افراد کی لاشیں ملیں، جنہیں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق مشتبہ ملزم موقع سے فرار ہوچکا تھا، تاہم جلد ہی اس کی شناخت 52 سالہ ریان ولیس میک فارلینڈ کے نام سے کرلی گئی، جو مسکیٹین کا رہائشی تھا۔

بعد ازاں پولیس نے ملزم کو شہر کے دریا کنارے واقع پیدل چلنے کے راستے کے قریب تلاش کرلیا۔ پولیس چیف انتھونی کیز کے مطابق جب افسران اس سے بات چیت کر رہے تھے تو اس نے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں مجموعی طور پر سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں چھ خاندان کے افراد اور خود ملزم شامل ہے۔ پولیس نے مزید کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور تمام حقائق سامنے آنے کے بعد مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔

امریکا میں گھریلو تنازعات سے جڑے فائرنگ کے واقعات ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئے ہیں، جبکہ اس افسوسناک سانحے نے مقامی کمیونٹی کو شدید صدمے میں مبتلا کردیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
  •   مٹی کا طوفان ، تیز بارش,2خواتین سمیت5 افراد جاں بحق
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس