کوئٹہ سریاب روڈ دھماکے کا مقدمہ درج، بلوچستان بار کونسل کا عدالتی بائیکاٹ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
سی ٹی ڈی نے کوئٹہ دھماکے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا ہے۔
کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ شاہوانی گراؤنڈ کے قریب گزشتہ شب ہونے والے خودکش دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 15 ہوگئی جبکہ 38 افراد زخمی حالت میں مختلف اسپتالوں میں منتقل کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیے: کوئٹہ میں بی این پی کے جلسے کے بعد دھماکا، اختر مینگل بال بال بچے
سول اسپتال کے حکام کے مطابق زخمیوں میں سے 6 کو سی ایم ایچ منتقل کیا گیا، 15 افراد کو طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا جبکہ 9 مریض زیر علاج ہیں۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق دھماکے کے متاثرین پر اب تک 6 بڑے آپریشن بھی کیے جا چکے ہیں۔
ادھر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے واقعے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا ہے۔ ترجمان کے مطابق مقدمہ قتل، اقدامِ قتل اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ہوا ہے جبکہ خودکش حملہ آور کے جسمانی اعضا فرانزک کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔
دھماکے کے بعد بلوچستان بار کونسل نے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ اپنے بیان میں بار کونسل کا کہنا تھا کہ بلوچستان طویل عرصے سے دہشت گردی کا شکار ہے، سیاسی قوتوں کو باہمی نفرت کے بجائے رواداری اور محبت کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔
بار کونسل نے کہا کہ سیاسی جماعت کے جلسے پر حملہ دراصل پرامن عوام کو آگ و خون میں دھکیلنے کی سازش ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بار کونسل سریاب دھماکا کوئٹہ دھماکا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بار کونسل سریاب دھماکا کوئٹہ دھماکا بار کونسل
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔