چناب اور راوی پھر بے قابو، تاریخی شہر ملتان زیر آب آنے کا خطرہ بڑھ گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
جنوبی پنجاب میں دریاؤں کی طغیانی خطرناک صورت اختیار کر گئی ہے۔ دریائے چناب شیر شاہ کے مقام پر انتہائی خطرے کے لیول سے اوپر جا چکا ہے جبکہ دریائے راوی میں ہیڈ سدھنائی پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سملی ڈیم الرٹ:
سملی ڈیم کا پانی اپنی زیادہ سے زیادہ گنجائش کی سطح 2315.45 فٹ تک پہنچ گیا۔آج دوپہر 1 بجے اس کے مرکزی اسپل وے کا ایک گیٹ 2 فٹ کھولنے کا فیصلہ۔پانی کا اخراج تقریباً 1700 کیوسک ہوگا۔ عوام محتاط رہیں، مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔ pic.
— NDMA PAKISTAN (@ndmapk) September 4, 2025
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ پانی کے شدید دباؤ سے نہروں میں شگاف پڑ رہے ہیں اور کئی بستیاں زیرِ آب آچکی ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ہیڈ سدھنائی سے آنے والے پانی کے دباؤ سے ملتان میں سدھنائی کینال میں بڑا شگاف پڑ گیا جس کے نتیجے میں بستی کھوکھراں سمیت وسیع آبادی متاثر ہوئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کینال میں گنجائش سے چار گنا زیادہ پانی داخل ہو چکا ہے اور شگاف کو پُر کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
نہروں میں شگاف، بستیاں زیرِ آبدریائے راوی کے اوور فلو ہونے سے رابطہ نہروں میں پانی داخل ہوا جس کے نتیجے میں رانگو نہر کے 2 مقامات پر شگاف پڑ گئے۔ اس سے درجنوں آبادیاں ڈوب گئیں۔ جبکہ سدھنائی لنک کینال پر ہنگامی بنیادوں پر مرمتی کام جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:دریائے چناب و ستلج میں بلند ترین سیلاب، لاکھوں افراد متاثر، حکومت کا بڑے ریلیف آپریشن کا دعویٰ
محکمہ انہار کے مطابق دریائے چناب کا سیلابی ریلا ملتان کی حدود میں دباؤ بڑھا رہا ہے، خصوصاً اکبر فلڈ بند پر پانی کی سطح 414 فٹ تک پہنچ گئی ہے۔
ہنگامی اقدامات اور خطرے کی سطحمحکمہ انہار کا کہنا ہے کہ شیر شاہ کے مقام پر پانی کا گیج 394 فٹ تک جا پہنچا ہے اور اگر یہ سطح 395 فٹ تک بڑھی تو پل کے اوپر سے پانی گزرنے لگے گا۔
دریائے چناب میں مرالہ ہیڈ ورکس پر سیلابی ریلے کا بہاؤ 5,48,237 کیوسک ریکارڈ، جو رات 8 بجے خانکی جبکہ رات 3 بجے 5,50,000 کیوسک بہاؤ کے ساتھ قادرآبادپہنچے گا۔تریموں ہیڈ ورکس (8 ستمبر صبح 7 بجے)، پنجند (11 ستمبر رات 8 بجے) اور گڈو بیراج (13 ستمبر رات 8 بجے) تک سیلابی ریلے متوقع۔ pic.twitter.com/SqQkdDjxVI
— NDMA PAKISTAN (@ndmapk) September 3, 2025
کمشنر ملتان کے مطابق ہیڈ محمد والا پر زیادہ سے زیادہ حد 417 فٹ ہے، جہاں ضرورت پڑنے پر شگاف ڈالنے کا فیصلہ ٹیکنیکل کمیٹی کرے گی۔ اس دوران فلڈ ریلیف کیمپس میں متاثرہ افراد کی آمد جاری ہے۔
ستلج میں بھی اونچے درجے کا سیلابدریائے ستلج میں بھی خطرناک صورتحال برقرار ہے۔ ہیڈ اسلام پر درمیانے جبکہ جملیرا پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق بورے والا اور میلسی کے نشیبی علاقوں سے 95 فیصد انخلاء مکمل کر لیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کا انتباہڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے نجی چینل سے گفتگو میں کہا کہ صوبے کے تینوں دریاؤں میں سیلاب کے باعث تقریباً 13 لاکھ ایکڑ رقبہ زیرِ آب ہے اور چار ہزار سے زائد دیہات متاثر ہو چکے ہیں۔
ان کے مطابق انسانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے، تاہم ملتان کے لیے اگلے 24 گھنٹے نہایت اہم ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب چناب ستلج سندھ سیلاب کمشنر ملتان ملتان
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ستلج سیلاب کمشنر ملتان ملتان دریائے چناب کا سیلاب کے مطابق
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔