جنوبی پنجاب میں دریاؤں کی طغیانی خطرناک صورت اختیار کر گئی ہے۔ دریائے چناب شیر شاہ کے مقام پر انتہائی خطرے کے لیول سے اوپر جا چکا ہے جبکہ دریائے راوی میں ہیڈ سدھنائی پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔

سملی ڈیم الرٹ:
سملی ڈیم کا پانی اپنی زیادہ سے زیادہ گنجائش کی سطح 2315.45 فٹ تک پہنچ گیا۔آج دوپہر 1 بجے اس کے مرکزی اسپل وے کا ایک گیٹ 2 فٹ کھولنے کا فیصلہ۔پانی کا اخراج تقریباً 1700 کیوسک ہوگا۔ عوام محتاط رہیں، مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔ pic.

twitter.com/j1lXZ7XSbM

— NDMA PAKISTAN (@ndmapk) September 4, 2025

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ پانی کے شدید دباؤ سے نہروں میں شگاف پڑ رہے ہیں اور کئی بستیاں زیرِ آب آچکی ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ہیڈ سدھنائی سے آنے والے پانی کے دباؤ سے ملتان میں سدھنائی کینال میں بڑا شگاف پڑ گیا جس کے نتیجے میں بستی کھوکھراں سمیت وسیع آبادی متاثر ہوئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کینال میں گنجائش سے چار گنا زیادہ پانی داخل ہو چکا ہے اور شگاف کو پُر کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

نہروں میں شگاف، بستیاں زیرِ آب

دریائے راوی کے اوور فلو ہونے سے رابطہ نہروں میں پانی داخل ہوا جس کے نتیجے میں رانگو نہر کے 2 مقامات پر شگاف پڑ گئے۔ اس سے درجنوں آبادیاں ڈوب گئیں۔ جبکہ سدھنائی لنک کینال پر ہنگامی بنیادوں پر مرمتی کام جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:دریائے چناب و ستلج میں بلند ترین سیلاب، لاکھوں افراد متاثر، حکومت کا بڑے ریلیف آپریشن کا دعویٰ

محکمہ انہار کے مطابق دریائے چناب کا سیلابی ریلا ملتان کی حدود میں دباؤ بڑھا رہا ہے، خصوصاً اکبر فلڈ بند پر پانی کی سطح 414 فٹ تک پہنچ گئی ہے۔

ہنگامی اقدامات اور خطرے کی سطح

محکمہ انہار کا کہنا ہے کہ شیر شاہ کے مقام پر پانی کا گیج 394 فٹ تک جا پہنچا ہے اور اگر یہ سطح 395 فٹ تک بڑھی تو پل کے اوپر سے پانی گزرنے لگے گا۔

دریائے چناب میں مرالہ ہیڈ ورکس پر سیلابی ریلے کا بہاؤ 5,48,237 کیوسک ریکارڈ، جو رات 8 بجے خانکی جبکہ رات 3 بجے 5,50,000 کیوسک بہاؤ کے ساتھ قادرآبادپہنچے گا۔تریموں ہیڈ ورکس (8 ستمبر صبح 7 بجے)، پنجند (11 ستمبر رات 8 بجے) اور گڈو بیراج (13 ستمبر رات 8 بجے) تک سیلابی ریلے متوقع۔ pic.twitter.com/SqQkdDjxVI

— NDMA PAKISTAN (@ndmapk) September 3, 2025

کمشنر ملتان کے مطابق ہیڈ محمد والا پر زیادہ سے زیادہ حد 417 فٹ ہے، جہاں ضرورت پڑنے پر شگاف ڈالنے کا فیصلہ ٹیکنیکل کمیٹی کرے گی۔ اس دوران فلڈ ریلیف کیمپس میں متاثرہ افراد کی آمد جاری ہے۔

ستلج میں بھی اونچے درجے کا سیلاب

دریائے ستلج میں بھی خطرناک صورتحال برقرار ہے۔ ہیڈ اسلام پر درمیانے جبکہ جملیرا پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق بورے والا اور میلسی کے نشیبی علاقوں سے 95 فیصد انخلاء مکمل کر لیا گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کا انتباہ

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے نجی چینل سے گفتگو میں کہا کہ صوبے کے تینوں دریاؤں میں سیلاب کے باعث تقریباً 13 لاکھ ایکڑ رقبہ زیرِ آب ہے اور چار ہزار سے زائد دیہات متاثر ہو چکے ہیں۔

ان کے مطابق انسانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے، تاہم ملتان کے لیے اگلے 24 گھنٹے نہایت اہم ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پنجاب چناب ستلج سندھ سیلاب کمشنر ملتان ملتان

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ستلج سیلاب کمشنر ملتان ملتان دریائے چناب کا سیلاب کے مطابق

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا