امریکی عدالت نے گلوکارہ کارڈی بی کے گارڈ حملہ کیس کا بڑا فیصلہ سُنا دیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
امریکی عدالت نے معروف گلوکارہ کارڈی بی کو گارڈ حملہ کیس سے با عزت بری کردیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست لاس اینجلس کی ایک عدالت نے امریکی گلوکارہ و ریپر کارڈی بی کوخاتون گارڈ کیساتھ بدسلوکی کے کیس سے بری کردیا ہے۔
کارڈی بی پرالزام تھا کہ انہوں نے خاتون گارڈ پر حملہ کیا اور ناخنوں سے ان کا منہ نوچ لیا۔ متاثرہ خاتون نےعدالت میں بیان دیا کہ وہ بےحد تکلیف سے گزریں اور ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوگئیں تھیں جبکہ کارڈی بی نے عدالت میں تسلیم کیا کہ گارڈ سے سخت جھگڑا ضرور ہوا تھا مگر اس پر ہاتھ نہیں اُٹھایا تھا۔
امریکی گلوکارہ نے کہا کہ خاتون نے بغیر اجازت میری ویڈیو بنائی ویڈیو بنانے سے منع کیا لیکن وہ نہ مانی اور ویڈیو بنانا جاری رکھا جس پر انہوں نے اس سے جھگڑا کیا تاہم کوئی تشدد نہیں کیا۔
عدالت نے خاتون گارڈ کی جانب سے کارڈی بی پر گائے گئے الزام کو بےبنیاد قرار دیتے ہوئے کیس خارج کر دیا اور کارڈ بی کو باعزت بری کرتے ہوئے ہرجانے کا دعویٰ بھی مسترد کردیا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔