ملک میں مہنگائی کی رفتار زور پکڑ گئی، 23 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
ملک میں مہنگائی کی رفتار مزید زور پکڑ گئی، جس کے نتیجے میں 23 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
حالیہ ہفتے کے دوران ملک میں (ہفتہ وار) مہنگائی کی رفتار کی شرح میں1.29 فیصد اضافہ ہوا جب کہ اس سے پچھلے ہفتے ملک میں مہنگائی میں اضافے کی رفتار کی شرح 0.62 فیصد بڑھی تھی۔
اسی طرح سالانہ بنیادوں پر بھی مہنگائی میں اضافے کی رفتار کی شرح3.
وفاقی ادارہ شماریارت کی جانب سے جاری کردہ مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے پیاز، ٹماٹر، دال مونگ،آلو، لہسن، گندم کا آٹا سمیت دیگر اشیا مہنگی ہوئیں جبکہ چینی،سرسوں کا تیل اور ڈیزل آئل سستے ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ ایک ہفتے میں ٹماٹر کی قیمتوں میں46.03 فیصد،گندم کے آٹے کی قیمتوں میں25.41 فیصد،پیازکی قیمتوں میں8.57 فیصد،آلو کی قیمتوں میں1.38 فیصد،باسمتی ٹوٹا چاول کی قیمتوں میں2.62فیصد،دال مونگ کی قیمتوں میں1.29 فیصد،ایل پی جی کی قیمتوں میں 0.88فیصد، لہسن کی قیمتوں میں2.04 فیصد،بریڈ کی قیمتوں میں1.19 فیصد اور لانگ کلاتھ کی قیمتوں میں0.17 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
دریں اثنا کیلوں کی قیمتوں میں3.86 فیصد،ڈیزل کی قیمتوں میں0.91فیصد چینی کی قیمتوں میں0.13فیصد اور سرسوں کے تیل کی قیمتوں میں0.10 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاروں کے مطابق سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار2.01فیصداضافے کے ساتھ 5.60فیصد رہی۔
اسی طرح 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 1.90فیصداضافے کے ساتھ6.09فیصد اور 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار1.60فیصداضافے کے ساتھ6.03فیصد رہی۔
علاوہ ازیں 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار1.48فیصد اضافے کے ساتھ5.82فیصد رہی جب کہ44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار0.99فیصد اضافے کے ساتھ 3.78فیصدرہی ہے۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مہنگائی میں اضافے کی رفتار مہنگائی کی ملک میں
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔