بارشوں و سیلاب کے متاثرین کی بحالی ترجیح ہے، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
اسلام آباد، لاہور (نیوز ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ افراد کی فوری بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں منعقد ایک جائزہ اجلاس میں کہی، جس میں بارشوں و سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور جاری امدادی و بحالی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے فلڈ الرٹس سے متعلق مکمل معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ صرف ایک بار سفارتی ذرائع سے آگاہی دی گئی، حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان ایسی صورتحال میں معلومات کے تبادلے کا کوئی باقاعدہ اور موثر طریقہ کار موجود نہیں۔
ادھر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تباہی کی صورتحال بہت سنگین ہے۔ انہوں نے اس بات کو سراہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور ان کی ٹیم متاثرہ علاقوں میں بھرپور محنت سے کام کر رہی ہے۔ بلاول نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم زرعی ایمرجنسی کا اعلان کریں کیونکہ سیلاب نے پنجاب کے زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کو فوری طور پر بیج اور کھاد میں ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ وہ دوبارہ کاشتکاری شروع کر سکیں۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔