مون سون بارشوں نے پاکستان میں سیلابی صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔ پنجاب، سندھ اور جنوبی علاقوں میں دریاؤں کی بلند سطح سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔

اسلام آباد اور پنجاب کے بیشتر اضلاع میں 7 تا 9 ستمبر بارشوں کا امکان۔مری، اسلام آباد راولپنڈی جہلم، چکوال، اٹک، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، چنیوٹ، لاہور، سیالکوٹ نارووال شیخوپوره، فیصل آباد، سرگودھا میں شہری سیلاب اور ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ pic.

twitter.com/W6XbbYknZU

— NDMA PAKISTAN (@ndmapk) September 5, 2025

حکومت اور ریسکیو ادارے مسلسل ریلیف آپریشنز میں مصروف ہیں جبکہ وزیراعظم، وفاقی و صوبائی حکومتیں متاثرین کی بحالی کو اولین ترجیح قرار دے رہی ہیں۔

پنجاب میں پانی کی سطح میں کمی مگر خطرہ برقرار

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کے مطابق دریائے ستلج میں پانی کی سطح بتدریج کم ہورہی ہے۔

قصور، ہیڈ اسلام اور سلیمانکی میں حالات بہتر ہونے لگے ہیں جبکہ ملتان کے مقام پر بھی پانی نیچے جا رہا ہے۔

تاہم دریائے چناب میں سیلابی ریلے کا زور برقرار ہے اور چند مقامات پر صورتحال خطرناک بتائی جا رہی ہے۔

دریائے چناب اور ستلج کی صورتحال

ڈپٹی کمشنر جھنگ کے مطابق دریائے چناب میں تریموں ہیڈ ورکس پر پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 12 ہزار کیوسک سے زائد ریکارڈ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:متاثرین سیلاب کے لیے امدادی سامان کیساتھ پہلی امریکی پرواز پاکستان پہنچ گئی

ستلج کے مقامات پر بھی اونچے درجے کا سیلاب موجود ہے، جہاں قاسم والا، سلیمانکی اور ہیڈ اسلام پر پانی کی سطح بلند ہے۔

سندھ کے بیراجوں پر کڑی نگرانی

سندھ میں گڈو، سکھر اور کوٹری بیراجوں پر اونچے درجے کے پانی کی آمد و اخراج کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے۔

????فلڈ بولیٹن سی (وارننگ) اوراگلے 24 گھنٹوں کے لیے دریاؤن کے اہم مقامات پر متوقع پانی کی آمد اور سیلابی سطح کی پیشنگوئی۔@GovtofPakistan @pmdgov @ndmapk @GovtofPunjabPK @PdmapunjabO @PMOAJK @PDMAKP @PMOAJK @csgbpk @GovernmentKP pic.twitter.com/Xi5BEgnVIT

— FFDLahore (@ffdlhr) September 6, 2025

اطلاعات کے مطابق گڈو بیراج پر 3 لاکھ 48 ہزار کیوسک پانی کا بہاؤ ریکارڈ ہوا ہے جبکہ سکھر بیراج پر بھی 3 لاکھ 31 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے۔

متاثرین اور امدادی سرگرمیاں

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق اب تک 21 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، 9 ہزار سے زائد گھر اور 6 ہزار سے زائد مویشی ضائع ہوچکے ہیں۔

حکومت نے 2 ملین روپے فی شہید اہل خانہ کو معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ 1.3 ارب روپے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کو ریلیف آپریشنز کے لیے جاری کیے گئے ہیں۔

وزیراعظم کی ہدایات

وزیراعظم شہباز شریف نے متاثرین کی بحالی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ریلیف اور بحالی کے کام میں کوئی کمی نہ رہنے دی جائے۔

6 ستمبر صبح 9 بجے دریائے چناب، راوی اور ستلج کے اہم مقامات پر پانی کے بہاو اور سیلابی سطح کی تازہ ترین صورتحال۔ pic.twitter.com/wTuRrJMpuc

— FFDLahore (@ffdlhr) September 6, 2025

انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے جامع منصوبہ بنانے کی بھی ہدایت دی۔

بلاول بھٹو کے مطالبات

پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سیلاب متاثرہ کسانوں کے بجلی کے بل اور زرعی قرضے معاف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سیلاب متاثرین کی بحالی حکومت کی ترجیح ہے، وزیراعظم شہباز شریف

انہوں نے کہا کہ کسانوں کے لیے بیج اور کھاد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت متاثرین کو ہنگامی امداد دی جائے۔

بین الاقوامی تعاون

امریکا نے سیلاب متاثرین کے لیے امداد کا اعلان کیا ہے۔ چھ پروازوں کے ذریعے خیمے، ڈی واٹرنگ پمپس اور جنریٹر پاکستان پہنچائے جائیں گے۔

U.S. military aircraft delivered essential supplies at the request of the Pakistan military in response to the devastating floods. At Nur Khan Air Base, CDA Baker extended her deepest condolences to the people of Pakistan, whose lives have been uprooted by the widespread,… pic.twitter.com/60XFcQjShO

— U.S. Embassy Islamabad (@usembislamabad) September 6, 2025

پہلا جہاز اسلام آباد پہنچ چکا ہے اور امدادی سامان پاک فوج کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

بھارت سے تنازع

پاکستان نے بھارت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے دریاؤں کے پانی کا ڈیٹا شیئر کرنے سے انکار کرکے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت نے ستلج میں مزید سیلابی ریلا چھوڑ دیا، دریاؤں میں پانی کی سطح میں خطرناک اضافہ

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بھارت دریا کے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: دریائے چناب پانی کی سطح مقامات پر کے مطابق رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع

حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔

سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب