بڑے ایٹمی ذخائررکھنے والے ممالک تخفیف اسلحہ کے عملی اقدامات کریں‘ چین
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
امریکا اور روس کا بیجنگ کوایٹمی تخفیفِ اسلحہ مذاکرات میں شامل کرنے کا مطالبہ ’غیر منطقی اور غیر حقیقی ہے‘ترجمان چینی دفتر خارجہ
بیجنگ (جسارت ویب) چین نے کہا ہے کہ امریکا اور روس کی جانب سے بیجنگ کو ایٹمی تخفیفِ اسلحہ مذاکرات میں شامل کرنے کا مطالبہ غیر منطقی اور غیر حقیقی ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ چین اور امریکا کے ایٹمی ہتھیاروں کی صلاحیتوں میں کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا، دونوں ممالک کا اسٹریٹجک ماحول اور ایٹمی پالیسی بھی بالکل مختلف ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ چین “ایٹمی ہتھیاروں کے پہلے استعمال نہ کرنے” کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے اور صرف دفاعی حکمتِ عملی کے تحت ایٹمی طاقت رکھتا ہے۔ گو جیاکن نے مزید کہا کہ بیجنگ کسی بھی ملک کے ساتھ ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہوگا۔
ترجمان کے مطابق “جن ممالک کے پاس سب سے بڑے ایٹمی ذخائر ہیں، ان پر یہ خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عملی طور پر ایٹمی تخفیفِ اسلحہ کے اقدامات کریں۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ سے ملاقات سے قبل میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ “ہم روس اور چین دونوں کے ساتھ ایٹمی ہتھیاروں میں کمی کے معاملات پر بات کر رہے ہیں کیونکہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے۔”
ماہرین کے مطابق چین کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد امریکا اور روس کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔ واشنگٹن اور ماسکو کے پاس ہزاروں ایٹمی وارہیڈز موجود ہیں جبکہ بیجنگ کا ذخیرہ محدود ہے، اسی لیے چین کا مؤقف ہے کہ بڑے ایٹمی طاقتور ممالک کو سب سے پہلے اپنے ذخائر کم کرنے چاہئیں۔
TagsImportant News from Al Qamar.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ایٹمی ہتھیاروں
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔