والد کے انتقال کے اگلے ہی دن پرفارمنس، تنقید کرنے والوں کو عاطف اسلم نے کیا جواب دیا؟
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
عاطف اسلم کے والد اگست میں انتقال کر گئے تھے۔ گلوکار نے انسٹاگرام پر والد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ایک جذباتی تصویر شیئر کی، جس میں وہ اپنے والد کے گال پر بوسہ دے رہے ہیں۔
ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’میرا آئرن مین، آخری الوداع۔ اللہ آپ کو جنت الفردوس میں جگہ دے‘۔
تاہم صرف 2 دن بعد ہی عاطف اسلم کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کنسرٹ میں اسٹیج پر نظر آئے۔
جہاں کئی لوگوں نے ان کے حوصلے اور پروفیشنلزم کو سراہا، وہیں کچھ افراد نے ان پر سخت تنقید کی کہ انہوں نے غم کے باوجود شو کیوں منسوخ نہ کیا۔
تنقید کا جوابایک حالیہ انٹرویو میں عاطف اسلم نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’میرا کام یہ نہیں کہ میں سب کو اپنے حالات سمجھاؤں۔ میرا کام صرف آرٹ تخلیق کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:والد کے انتقال کے باوجود عاطف اسلم کی پرفارمنس، صارفین کی تنقید
مجھے میری موسیقی پر پسند کریں یا ناپسند، لیکن مجھے یہ مت بتائیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض لوگ ان کے دکھ کو اپنی شہرت کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔یہ لوگ اپنے چینل چلانے کے لیے کہانیاں گھڑ رہے تھے۔
والد کی یادیں اور موسیقی سے رشتہعاطف اسلم نے والد کے ساتھ اپنی جذباتی وابستگی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کبھی اپنے والد کو روتے نہیں دیکھا، لیکن جب انہوں نے پہلی بار میرا کوک اسٹوڈیو پر پڑھا ہوا ’تاجدارِ حرم‘ سنا تو وہ آبدیدہ ہوگئے۔
انہوں نے بتایا کہ بچپن میں ان کے والد اکثر صابری برادران کی یہی قوالی سناتے اور سب کو ساتھ بٹھا کر دیکھنے پر مجبور کرتے۔
عاطف کے مطابق وہ اس وقت شاید نہ سمجھ سکے، لیکن بعد میں انہیں والد کی روحانی وابستگی کا احساس ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:عاطف اسلم کے کنسرٹ روکنے پر گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کیوں آستینیں چڑھا لیں؟
والد کو اپنی اصل تحریک قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس نے اپنا والد کھو دیا، وہ کسی اور نقصان سے نہیں ڈرتا۔ یہی میرا حوصلہ اور بغاوت ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انتقال عاطف اسلم عاطف اسلم والد گلوکار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انتقال عاطف اسلم والد گلوکار انہوں نے والد کے کہا کہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔