والد کا عروج لتا اور آشا بھوسلے کو برداشت نہیں تھا؛ محمد رفیع کے بیٹے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
موسیقی کی دنیا کے بے تاج بادشاہ اور عالمی شہرت یافتہ بھارتی گلوکار محمد رفیع کے بیٹے نے بالی ووڈ انڈسٹری میں شہرت کے بھوکوں کے حسد، جلن اور سازشوں کو بے نقاب کردیا۔
مایہ ناز گلوکار محمد رفیع کے بیٹے شاہد رفیع نے انکشاف کیا کہ لتا منگیشکر اور آشا بھوسلے ان کے والد کی کامیابی کو ہضم نہ کر سکیں۔
بھارتی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ میرے والد کے ہم عصر گلوکاروں کے ساتھ بہترین تعلقات تھے لیکن لتا جی اور آشا جی ہمیشہ خائف رہتی تھیں۔
محمد رفیع کے بیٹے نے مزید کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ لتا منگیشکر اور آشابھوسلے کو یہ بات پسند نہیں تھی کہ لوگ محمد رفیع کو نمبر ون کیوں قرار دیتے تھے۔
انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ لتا منگیشکر نے کئی مواقع پر محمد رفیع کے خلاف رویہ اپنایا۔ اصل میں وہ خود غیر محفوظ محسوس کرتی تھیں۔”
محمد رفیع کے بیٹے نے آشا بھوسلے کے ایک پرانے تبصرے کا حوالہ بھی دیا، جس میں گلوکارہ نے کہا تھا کہ رفیع میں گانے کی وسعت کی کمی ہے۔
شاہد رفیع نے یہ الزام بھی لگایا کہ گنیز ورلڈ ریکارڈ جو پہلے میرے والد (محمد رفیع) کے نام تھا، اسے لتا منگیشکر کو منتقل کروایا گیا لیکن والد نے کبھی کوئی تنازع کھڑا نہیں کیا۔
یاد رہے کہ محمد رفیع بھارتی موسیقی کے سب سے بڑے اور ورسٹائل گلوکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔
جنہوں نے 7 ہزار سے زائد نغمے گائے جن میں فلمی گیت، غزلیں، بھجن، قوالیاں اور رومانٹک گانے شامل ہیں۔
ایس ڈی برمن، نوشاد اور آر ڈی برمن جیسے نامور موسیقاروں کے ساتھ ان کے گیت آج بھی سننے والوں کو مسحور کر دیتے ہیں۔
محمد رفیع کا انتقال 1980 میں محض 55 برس کی عمر میں ہوا لیکن ان کی آواز آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: محمد رفیع کے بیٹے لتا منگیشکر
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔