دو بچوں کی ماں نے باڈی بلڈنگ چیمپین بن کر سب کو حیران کر دیا!
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
چنائی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی ریاست تامل ناڈو کی شہناز بیگم کی کہانی لاکھوں خواتین کے لیے مثال بن گئی ہے۔ دو بچوں کی ماں ہونے کے باوجود انہوں نے شوہر کی طلاق کے بعد ہمت نہ ہاری بلکہ اپنی زندگی کو نئی سمت دیتے ہوئے باڈی بلڈنگ کے میدان میں عالمی سطح پر کامیابیاں حاصل کیں۔
شہناز بیگم کا تعلق چنائی کے علاقے کوڈونگائیور سے ہے۔ گریجویشن مکمل کرنے کے بعد انہوں نے جم جوائن کیا اور باڈی بلڈنگ کے سفر کا آغاز کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جذبہ انہیں اپنے والد جعفر پاشا سے وراثت میں ملا، جو خود بھی باڈی بلڈنگ کے کئی مقابلے جیت چکے ہیں۔ لیکن آج بیٹی اپنے والد سے آگے نکل کر عالمی سطح پر بھارت کا نام روشن کر رہی ہے۔
شہناز نے 2018 میں ’مس چنئی باڈی بلڈنگ‘ اور 2019 میں ’مس انڈیا باڈی بلڈنگ‘** کا ٹائٹل جیتا۔ 2024 میں انہوں نے ایشین باڈی بلڈنگ چیمپئن شپ میں طلائی تمغہ اپنے نام کیا اور حال ہی میں بنکاک میں ہونے والی 57ویں مسٹر ایشیا چیمپئن شپ میں چاندی کا تمغہ بھی حاصل کیا۔ ان کا اگلا ہدف عالمی سطح پر گولڈ میڈل جیتنا ہے۔
اپنے تربیتی معمولات کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں صبح و شام ایک ایک گھنٹہ ٹریننگ کرتی تھیں، لیکن اب یہ وقت بڑھ کر تین تین گھنٹے تک جا پہنچا ہے۔ سخت ڈائٹ پلان اور طویل ورزش کے باوجود وہ اپنے بچوں کے لیے وقت نکالتی ہیں۔
شہناز کہتی ہیں کہ خاندان اور رشتہ داروں نے شروع میں سخت مخالفت کی۔ طعنے دیے کہ عورتیں باڈی سوٹ میں کیوں مقابلے کرتی ہیں، جم جانے کی کیا ضرورت ہے، بچوں پر توجہ دو۔ لیکن انہوں نے ان تمام باتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی محنت جاری رکھی اور آج اپنی کامیابیوں سے سب کو حیران کر دیا۔
شہناز بیگم کے مطابق: “میں نے طلاق کو اپنی زندگی کا خاتمہ نہیں سمجھا بلکہ ایک نئی شروعات بنایا۔ میری خواہش ہے کہ آنے والی نسلیں یہ دیکھیں کہ عورتیں بھی کسی میدان میں پیچھے نہیں۔”
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: باڈی بلڈنگ انہوں نے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔