صدر آصف علی زرداری نے اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز ترمیمی بل 2025 کی منظوری دے دی ہے
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
صدر آصف علی زرداری نے اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز ترمیمی بل 2025 کی منظوری دے دی ہے۔
ایوانِ صدر کے پریس وِنگ کی جانب سے اتوار کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر کی منظوری کے بعد یہ ڈیوٹیز یکم جولائی 2020 سے مؤثر ہوں گی۔ یہ بل قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے بعد صدر مملکت کو بھیجا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: صدر آصف علی زرداری نے انسدادِ دہشتگردی (ترمیمی) بل 2025 کی منظوری دے دی
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ ترمیمی بل چینی گرانٹس سے فنڈ ہونے والے منصوبوں پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز کے نفاذ کے حوالے سے قانونی وضاحت فراہم کرنے کے لیے منظور کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اس ترمیم کا فیصلہ اکتوبر 2022 میں گوادر منصوبوں کے جائزہ اجلاس کے دوران کیا گیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی بل صدر آصف علی زرداری گوادر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی بل صدر آصف علی زرداری گوادر صدر آصف علی زرداری کی منظوری
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔