جاپانی وزیراعظم مستعفی، ملک میں سیاسی عدم استحکام بڑھ گیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
جاپان کے وزیراعظم شیجرو ایشیبا نے جولائی میں ہونے والے انتخابات میں حکمران جماعت کی بڑی ناکامی کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
Japanese Prime Minister Shigeru Ishiba has announced a decision to resign from his post, Japan’s public broadcaster NHKreported on Sunday:https://t.co/QldihhpzFr pic.
— TASS (@tassagency_en) September 7, 2025
پارٹی کے اندرونی دباؤ اور قیادت کے بحران کے باعث انہوں نے اقتدار چھوڑنے کا اعلان کیا۔
شیجرو ایشیبا آئندہ پریس کانفرنس میں اپنے استعفے کی وجوہات پر باضابطہ بیان دیں گے۔
ان کے مستعفی ہونے کے بعد حکمران جماعت کے نئے لیڈر کے انتخاب کے لیے دوڑ شروع ہوگی، جس میں شینجرو کوئزوومی اور سانائے تاکائیچی جیسے رہنماؤں کے نام نمایاں سمجھے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:جاپانی شہروں پر افریقی ’قبضے‘ کی افواہیں، عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیشرفت جاپان میں سیاسی عدم استحکام اور قیادت کی نئی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جاپان سیاسی عدم استحکام وزیراعظم جاپان
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جاپان سیاسی عدم استحکام وزیراعظم جاپان
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔