WE News:
2026-06-03@03:55:45 GMT

جاپانی وزیراعظم مستعفی، ملک میں سیاسی عدم استحکام بڑھ گیا

اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT

جاپانی وزیراعظم مستعفی، ملک میں سیاسی عدم استحکام بڑھ گیا

جاپان کے وزیراعظم شیجرو ایشیبا نے جولائی میں ہونے والے انتخابات میں حکمران جماعت کی بڑی ناکامی کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

Japanese Prime Minister Shigeru Ishiba has announced a decision to resign from his post, Japan’s public broadcaster NHKreported on Sunday:https://t.co/QldihhpzFr pic.

twitter.com/LmBiNvjGeg

— TASS (@tassagency_en) September 7, 2025

پارٹی کے اندرونی دباؤ اور قیادت کے بحران کے باعث انہوں نے اقتدار چھوڑنے کا اعلان کیا۔

شیجرو ایشیبا آئندہ پریس کانفرنس میں اپنے استعفے کی وجوہات پر باضابطہ بیان دیں گے۔

ان کے مستعفی ہونے کے بعد حکمران جماعت کے نئے لیڈر کے انتخاب کے لیے دوڑ شروع ہوگی، جس میں شینجرو کوئزوومی اور سانائے تاکائیچی جیسے رہنماؤں کے نام نمایاں سمجھے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:جاپانی شہروں پر افریقی ’قبضے‘ کی افواہیں، عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیشرفت جاپان میں سیاسی عدم استحکام اور قیادت کی نئی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جاپان سیاسی عدم استحکام وزیراعظم جاپان

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جاپان سیاسی عدم استحکام وزیراعظم جاپان

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق