یادگار آپریشن سومنات میں پاک بحریہ نےبھارتی مواصلاتی نظام تباہ کیاتھا، وزیراعظم کایوم بحریہ پر پیغام
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاک بحریہ کی تاریخ بہادری کی داستانوں سے بھرپور ہے جس میں 1965 کی جنگ میں آپریشن سومنات ایک یادگار حیثیت رکھتا ہے، اس آپریشن میں پاک بحریہ نے بھارتی ساحلی شہر دوارکا پر فیصلہ کن حملہ کرتے ہوئے مواصلاتی نظام کو تباہ کیا تھا۔
یوم بحریہ پر جاری اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ پاک بحریہ سے وابستہ تمام جوانوں، افسران اور اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جن کے عزم و حوصلے اور پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی نے ہمیشہ قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔
اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاک بحریہ کی تابناک تاریخ اور افسران کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ملک کی آبی سرحدوں اور آبی مفادات کے تحفظ کا اعادہ کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک بحریہ کی تاریخ بہادری کی داستانوں سے بھرپور ہے جس میں 1965 کی جنگ میں آپریشن سومنات ایک یادگار حیثیت رکھتا ہے۔ اس آپریشن میں پاک بحریہ نے بھارتی ساحلی شہر دوارکا پر فیصلہ کن حملہ کرتے ہوئے مواصلاتی نظام کو تباہ کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن پاک بحریہ کی نہ صرف بہادری اور عملی صلاحیتوں کا مظاہرہ تھا بلکہ اس نےملکی آبی سالمیت اور خود مختاری کی غیر متزلزل تحفظ کے عزم کی بھی بنیاد رکھی۔ 1965 کی جنگ کے بعد بھی بحیرہ عرب میں طاقت کے توازن کو قائم رکھنے میں پاک بحریہ کا کلیدی کردار اسکی پیشہ ورانہ صلاحیت اور حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہاکہ حالیہ معرکہ حق میں پاک بحریہ نے اپنی روشن تاریخ کے عین مطابق بڑی کامیابی سے اپنی تیاری اور عزم کا عملی ثبوت دیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ کامیاب دفاع نے یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنی آبی سرحدوں کی حفاظت اور سالمیت کا ہر قیمت پر تحفظ کرنا جانتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاک بحریہ جنگی محاذ کے علاوہ پاکستان کے آبی شعبہ کی مضبوطی میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ بلو اکانومی، بندرگاہوں کی تعمیر و ترقی اور اس سے وابستہ کمیونٹی کی فلاح و بہبود اور معاشی پہلوؤں میں پاک بحریہ اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فخر سے کہا جا سکتا ہے کہ پاک بحریہ ملک کی محافظ اور ہمارے تابناک مستقبل کی معمار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں پاک بحریہ نے کہ پاک بحریہ پاک بحریہ کی انہوں نے کہا نے کہا کہ
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔