خیبرپختونخوا اسمبلی میں گستاخ صحابہ کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کر کے وطن واپس لانے کی قرارداد منظور
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
خیبرپختونخوا اسمبلی نے اصحاب رسول ﷺ کی گستاخی میں ملوث افراد کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کر کے وطن واپس لانے کی قرارداد متفتہ طور پر منظور کرلی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسپیکر بابر سواتی کی سربراہی میں خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں جمعیت علما اسلام کے رکن محمد ریاض نے قرارداد پیش کی۔
قرارداد میں کہا گیا کہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی شہری ہدایت حسین نے سوشل میڈیا پر صحابہ کرام ؓ کی شان میں گستاخی کی جس سے تمام مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی۔
قرارداد میں کہا گیا کہ ہدایت حسین سمیت تمام گستاخ صحابہ کے ملزمان کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کر کے وطن واپس لاکر انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔
حکومت اور اپوزیشن اراکین نے اس قرارداد کی حمایت کی جس پر اسے کثرت رائے سے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
ایک مسافر کی بلوٹوتھ ڈیوائس(Bluetooth) کا نام “بم” ظاہر ہونے کے باعث امریکی ایئر لائن کی بین الاقوامی پرواز کو دورانِ سفر واپس موڑ کر ہنگامی لینڈنگ کرانا پڑی۔
ایئر لائن ذرائع کے مطابق یونائیٹڈ ایئر لائنز کی پرواز یو اے 236 نے 30 مئی کی شام نیوارک لبرٹی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اسپین کے جزیرے پالما ڈی میلورکا کے لیے روانگی اختیار کی تھی۔ پرواز معمول کے مطابق اپنے سفر پر گامزن تھی اور تقریباً دو گھنٹے بعد بحر اوقیانوس کے اوپر پرواز کر رہی تھی۔
اسی دوران ایک مسافر کی بلوٹوتھ ڈیوائس کا نام “بم” کے طور پر ظاہر ہوا، جس کے بعد کیبن میں موجود بعض مسافروں اور عملے میں تشویش پھیل گئی۔ واقعے کی اطلاع فوری طور پر پائلٹ کو دی گئی جس نے حفاظتی ضوابط اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کے تحت صورتحال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پرواز کو واپس موڑنے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ سیکیورٹی خطرے کے پیش نظر طیارے نے نیوارک واپس جانے کا رخ کیا اور تقریباً پونے چار گھنٹے بعد ہنگامی بنیادوں پر بحفاظت لینڈنگ کی۔
مزیدپڑھیں:دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
لینڈنگ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی حکام نے طیارے کا تفصیلی معائنہ کیا جبکہ مشتبہ ڈیوائس اور اس کے مالک کے بارے میں تحقیقات بھی کی گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی قسم کا دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا، تاہم حکام نے واقعے کو فضائی سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی سنجیدگی سے لیا۔
ہوائی سفر کے دوران بم یا دیگر خطرناک الفاظ کا استعمال، خواہ مذاق یا غیر سنجیدگی کے طور پر ہی کیوں نہ کیا جائے، سخت سیکیورٹی ردعمل کا سبب بن سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں پروازوں میں تاخیر، ہنگامی لینڈنگ اور قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔