عرب وزرا خارجہ کی اسرائیلی بیانات کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
عرب اسلامی وزرائےخارجہ کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں اسرائیلی بیانات مسترد کر دیے گئے۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق اجلاس کے جاری اعلامیہ کے مطابق وزرائے خارجہ نے کہا کہ فلسطینی عوام کی بےدخلی اور محاصرےکی مذمت کرتے ہیں۔
عرب اسلامی وزرائےخارجہ کمیٹی نے غزہ میں فوری جنگ بندی اور امدادی رسائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسرائیل کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر اظہار تشویش کیا۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مغربی کنارے میں بستیاں اور گھروں کی مسماری اور زمین پر قبضہ ناقابل قبول ہے۔
عرب وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل اپنے دسویں اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا کہ یہ تمام اقدامات فلسطینی عوام کے حقِ ریاست پر کھلا حملہ ہیں۔ ارکان نے کہا کہ بیت المقدس کے آبادیاتی، تاریخی اور مذہبی تشخص کو بدلنے کی کوششیں اور 1967 سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی حیثیت میں تبدیلی کے اقدامات بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور عالمی عدالت انصاف کی رائے کے خلاف ہیں۔
کمیٹی نے مسجد اقصی کے خلاف بڑھتی ہوئی اسرائیلی خلاف ورزیوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء اور حکام کے اشتعال انگیز دورے اور بیانات اور ایسے اقدامات شامل ہیں جن کا مقصد مسجد کو وقت اور جگہ کے لحاظ سے تقسیم کرنا ہے۔
مزید یہ کہ اسرائیل کی جانب سے عائد سخت پابندیوں کی مذمت کی گئی جو مسلمانوں کو آزادانہ طور پر مسجد اقصی تک خاص طور پر رمضان اور مذہبی مواقع پر پہنچنے سے روکتی ہیں۔ اسی طرح بیت المقدس میں عیسائی وجود کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات، جیسے یونانی آرتھوڈوکس پٹریارکیٹ کے بینک کھاتوں کو منجمد کرنا، گرجا گھروں، خانقاہوں اور مسیحی قبرستانوں پر حملے اور مذہبی شخصیات پر تشدد کو بھی مسترد کر دیا گیا۔
عرب وزراء نے اعادہ کیا کہ اسرائیل کو بیت المقدس اور اس کے مقامات مقدسہ پر کوئی خود مختاری حاصل نہیں، اور مشرقی بیت المقدس ریاستِ فلسطین کا دارالحکومت ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی یکطرفہ اقدام یا حملے سے اس کی قانونی حیثیت متاثر نہیں ہو سکتی۔ عرب وزراء نے اس موقف کو بھی دہرایا کہ انصاف پر مبنی پائے دار امن صرف اسی وقت ممکن ہے جب قبضہ ختم ہو اور ایک آزاد، خود مختار اور جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست قائم ہو، جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔
عالمی برادری سے اسرائیلی جرائم پر جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہوئے فلسطینی عوام کےحق خود ارادیت اور ریاستی قیام پر زور دیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق 1967کی سرحدوں پر مشرقی یروشلم کے دارالحکومت کے ساتھ فلسطینی ریاست واحد حل قرار دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: بیت المقدس
پڑھیں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ
جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ