سندھ ہائیکورٹ: 8 لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر حکومت سے جواب طلب
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
کراچی:
سندھ ہائیکورٹ نے مدرسے کے طالب علم سمیت 8 لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر سندھ حکومت، آئی جی سندھ اور دیگر سے جواب طلب کرلیا۔
جسٹس ظفر احمد راجپوت کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو مدرسے کے طالب علم سمیت 8 لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ پیش رفت رپورٹ جمع نہ کرانے پر عدالت نے پولیس حکام پر اظہار برہمی کیا۔
عدالت نے ایس ایچ او اور ڈی ایس پی سعید آباد کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔ جسٹس ظفر احمد راجپوت نے ریمارکس میں کہا کہ پولیس نے لاپتا طالب علم عبد الرحمان کی گمشدگی کا مقدمہ درج کیوں نہیں کیا؟۔
وکیل نے موقف دیا کہ پولیس نے درخواست گزار کا بیان ریکارڈ کرلیا، ایف آئی آر درج نہیں کی۔ سرکاری وکیل نے موقف اپنایا کہ مقدمے کے اندراج کے لیے درخواست کی کاپی فراہم کی جائے۔ ایس ایچ او اور ڈی ایس پی بچھلی سماعت پر پیش ہوئے تھے، اب کاپی چاہئے؟ عدالت نے آئی جی سندھ اور دیگر سے بھی وضاحت طلب کرلی۔
عدالت نے سرجانی کے علاقے سے لاپتا شہری یوسف کی گمشدگی کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے عمر فاروق، رانا اقبال، شعیب اقبال، شیراز کی بازیابی سے متعلق پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔
عدالت نے سعید آباد کے علاقے سے لاپتا اویس سکندر کی گمشدگی کی درخواست پر نوٹس جاری کردیے۔ عدالت نے سندھ حکومت، آئی جی سندھ اور دیگر سے 13 اکتبوبر کو جواب طلب کرلیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی بازیابی سے متعلق عدالت نے
پڑھیں:
حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کراچی کے وفد نے حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں سندھ کے صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دینی امور، مساجد، مدارس، محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزاراتِ اولیائے کرام کی دیکھ بھال زائرین کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں سید رفیق شاہ، مفتی بلال قادری، مولانا جمیل احمد امینی، عبداللہ میمن اور شفیع رانا قادری بھی شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔
شاہ عبد الحق قادری نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی ادارے مساجد، مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی مسائل کے حل اور مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔