پاکستان اس وقت دہشتگردی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے جس کی شدت خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سب سے زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کی نئی فعالیت بیرونی محفوظ پناہ گاہوں اور اندرونی سیاسی تقسیم کا براہِ راست نتیجہ ہے۔

اصل اسباب کی نشاندہی، پالیسی خلا کی درستی اور ایک ہمہ جہت، ریاستی و سماجی ربط پر مبنی قومی ردِعمل کی فوری ضرورت ناگزیر ہو چکی ہے۔

ماضی کی مصالحتی پالیسی نے مسئلہ گھٹانے کے بجائے اسے طول دیا۔ پی ٹی آئی حکومت کے دور میں ٹی ٹی پی سے مذاکرات اور ’نرمی‘ کے رویے نے ان گروہوں کو از سرِ نو منظم ہونے کی گنجائش دی حالانکہ ان کا ریکارڈ بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتوں سے جڑا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا: 8 ماہ کے دوران دہشتگردی کے 605 واقعات میں 138 شہری شہید ہوئے، سی ٹی ڈی

آج بھی پی ٹی آئی کی زیرِ قیادت خیبر پختونخوا حکومت اسی روش کی حامل دکھائی دیتی ہے، جس سے کاؤنٹر ٹیررازم آپریشنز متاثر ہوتے ہیں اور دہشتگرد و انتشار پسند حوصلہ پاتے ہیں۔

سیاسی سطح پر قومی بیانیے کو کمزور کرنے کا رجحان بھی واضح ہے۔ ٹی ٹی پی اور اس کے افغان سرپرستوں بارے پی ٹی آئی کی نرم گفتار قومی اتفاقِ رائے کو مجروح کرتی ہے، جبکہ پی ٹی ایم، پی ٹی آئی کے ساتھ تال میل میں ریاستی کارروائیوں کو ’ڈالر وار‘ قرار دے کر انتہاپسند پروپیگنڈا کو آکسیجن دیتی ہے۔

اس طرح کی تقسیم انگیز کہانیاں شہدا کے خون کی توہین اور عوامی اعتماد کی تضعیف کا باعث بنتی ہیں۔

مزید پڑھیں: قطر کی قیادت کا دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے کردار کو خراجِ تحسین

2021 میں افغانستان سے US انخلا کے بعد سرحد پار سے در اندازی کی نوعیت خطرناک طور پر بدل گئی۔ اندازاً 70 تا 80 فیصد دہشتگرد کیڈر جو پاکستان میں داخل ہو رہا ہے وہ افغان شہریوں پر مشتمل ہے جبکہ ٹی ٹی پی لاجسٹک و گائیڈ کا کردار ادا کر رہی ہے۔

صرف 2025 میں ٹی ٹی پی کے ساتھ لڑتے ہوئے 126 افغان شہری ہمارے سیکیورٹی اداروں کے ہاتھوں مارے گئے۔ افغان سرزمین پر 57 سے زائد ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کیمپس ٹریننگ اور حملوں کے لانچ پیڈ کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔

افغان عبوری حکومت کی کارروائیاں سطحی اور نمائشی ہیں، کئی جگہ یہ سرگرمیاں محض یہ تاثر قائم رکھنے کے لیے دہشتگردوں کے ساتھ ہم آہنگ دکھائی دیتی ہیں کہ ہم (افغان طالبان) کارروائی کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ ہیں، چینی صدر کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں مزید کیا باتیں ہوئیں؟

افغان مہاجرین کے نیٹ ورکس اور وسائل کو ٹی ٹی پی اور آئی ایس کے پی نے لاجسٹکس اور بھرتی کے لیے بری طرح استعمال کیا ہے۔ پی ٹی آئی کی زیرِ قیادت خیبر پختونخوا حکومت، افغان مختلف بہانوں کا جواز دے کر غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی کے عمل کو کمزور کرتی رہی، حالانکہ یہ قومی سلامتی کی حکمتِ عملی کا بنیادی تقاضا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹس مسلسل بتاتی آئی ہیں کہ افغان سرزمین اور وسائل ٹی ٹی پی، آئی ایس کے پی اور بی ایل اے کی مالی و عملی تقویت کے لیے بروئے کار آ رہے ہیں۔

اندرونِ ملک سیاسی نااتفاقی اور بیانیے کی جنگ نے دشمن کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا ہے۔ پی ٹی آئی، پی ٹی ایم اور اے این پی ریاستی کاؤنٹر ٹیررازم کاوشوں پر ابہام پھیلاتے اور مخالف بیانیوں کو بڑھاوا دیتے ہیں، جس سے سیاسی عدم استحکام اور سماجی کنفیوژن میں اضافہ ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: صدر آصف علی زرداری نے انسدادِ دہشتگردی (ترمیمی) بل 2025 کی منظوری دے دی

دہشتگرد افغان کیمپوں اور پاکستان کے اندر شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر کے آپریشنز کو مزید مشکل بنا رہے ہیں۔

سماج پر اس تمام صورتِ حال کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ شہداء کے خاندان سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ان کی قربانیوں کا احترام کیا جا رہا ہے جبکہ مصالحتی روش اور متضاد سیاسی بیانیے قومی عزم کو مضمحل کرتے ہیں۔

گمراہ کن اطلاعات سے جنم لینے والا ابہام طویل المدتی کاؤنٹر ٹیررازم مہم کے لیے درکار قومی ارادے کو کمزور کرتا ہے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی قوتیں مصالحتی رجحان کو خیرباد کہیں اور ٹی ٹی پی، بی ایل اے، آئی ایس کے پی اور ان کے فکری سہولت کاروں کے خلاف زیرو ٹالرنس کا واضح، مشترکہ اور غیر مبہم اعلان کریں۔

مزید پڑھیں: ایرانی مسلح افواج کے سربراہ کا فیلڈمارشل عاصم منیر کو فون، سرحد پار دہشتگردی کے خاتمے کے عزم پر اتفاق

پارلیمان، صوبوں اور میڈیا میں ایک ہی رُخ اور ایک ہی پیغام نظر آنا چاہیے۔ افغانستان کے باب میں جوابدہی کی پالیسی سخت اور ہمہ سطوح ہونی چاہیے۔

پاکستان کو دو طرفہ، علاقائی اور اقوامِ متحدہ کے فورمز پر افغان عبوری حکومت پر مسلسل اور بامعنی دباؤ برقرار رکھنا ہوگا کہ وہ محفوظ پناہ گاہیں ختم کرے، لانچ پیڈز بند کرائے اور دہشتگردوں کو سیاسی پردہ فراہم کرنے سے باز رہے۔

مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل بتدریج مگر غیر مبہم ہو، تاکہ دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے والے لاجسٹک و انسانی نیٹ ورکس ٹوٹ جائیں۔

یہ عمل انسانی وقار اور قانون کے مطابق ہو، مستحقینِ تحفظ کے لیے بین الاقوامی فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ رہے، مگر سہولت کاروں، جرائم پیشہ نیٹ ورکس اور جعلی دستاویزی معیشت کے مراکز پر فوری ہاتھ ڈالا جائے۔

مزید پڑھیں: دہشتگردی کے خلاف برسرپیکار بلوچستان پولیس کو نفری کی کمی اور مالی مشکلات کا سامنا

دشمن کے بیانیہ کے خلاف محاذ کو مضبوط بنایا جائے۔ پی ٹی آئی، پی ٹی ایم اور اے این پی کی دوہرے معیار کو دلیل، شواہد اور اخلاقی اتھارٹی کے ساتھ بے نقاب کیا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام کے لیے ترقیاتی منصوبوں کے بروقت نفاذ، سابق فاٹا کی مؤثر انضمام حکمتِ عملی اور سماجی و معاشی اقدامات کے ذریعے ریاستی کمٹمنٹ کا عملی ثبوت دیا جائے، مقامی عمائدین، علما، نوجوانوں اور ڈیجیٹل انفلوئنسرز کو اس مہم کا شریکِ کار بنایا جائے۔

انسدادِ دہشتگردی کے قوانین کا نفاذ شفاف، مسلسل اور خوف و مصلحت سے بالاتر ہو۔ آن لائن یا سیاسی سرگرمی کے پردے میں دہشتگردی کے پروپیگنڈے کو پھیلانے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے، عدالتی عمل کی پاسداری اور مؤثر سرکاری ترجمانی کے ساتھ تاکہ ریاستی جواز اور عوامی اعتماد مزید مضبوط ہو۔

مزید پڑھیں: پاک امریکا بڑھتے تعلقات، دہشتگردی کے خلاف کن امور پر اتفاق ہوا؟

یہ معرکہ صرف عسکری نہیں، سیاسی، نظریاتی اور سماجی بھی ہے۔ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کی نئی لہر کو اس وقت تک فیصلہ کن شکست نہیں دی جا سکتی جب تک بیرونی سرپرستی ختم نہ کی جائے۔

افغان مہاجرین کی واپسی قانون اور نظم کے تحت مکمل نہ ہو، اور بالخصوص پی ٹی آئی، پی ٹی ایم اور اے این پی کی تقسیم انگیز سیاست کا خاتمہ نہ ہو۔ ایک جامع / قومی حکمتِ عملی ہی پاکستان کے پائیدار امن اور استحکام کی ضمانت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان دہشتگردی کی نئی لہر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان دہشتگردی کی نئی لہر دہشتگردی کے خلاف خیبر پختونخوا آئی ایس کے پی مزید پڑھیں پاکستان کے کی نئی لہر بی ایل اے پی ٹی آئی پی ٹی ایم ٹی ٹی پی کے ساتھ رہے ہیں رہا ہے پی اور کے لیے

پڑھیں:

پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا

پشاور:

خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔

شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔

بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔

مزید پڑھیں

پشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع

شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔

دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم