پاکستان نے قطر کے دارالحکومت دوحا میں اسرائیلی فوج کی جانب سے کیے گئے بمباری کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، جس میں ایک رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا گیا اور معصوم شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہوا۔

وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ غیر قانونی اور بزدلانہ حملہ نہ صرف قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ بھی ہے۔

On behalf of the people and Government of Pakistan as well as on my own behalf, I strongly condemn the unlawful and heinous bombing in Doha by Israeli forces, targeting a residential area, and endangering the lives of innocent civilians.

Our deepest sympathies and solidarity are…

— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) September 9, 2025

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان پوری طرح قطر کے امیر، اعلیٰ شان شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، شاہی خاندان اور عوام کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل کا قطر میں حماس قیادت پر حملہ، سینیئر رہنما خلیل الحیہ شہید

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نہ صرف قطر کے ساتھ کھڑا ہے بلکہ فلسطینی عوام کے ساتھ بھی اسرائیلی جارحیت کے خلاف اپنی مضبوط حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے اس اقدام کو غیر ضروری اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطے میں امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان

تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔

دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان