کراچی سیلابی صورتحال، متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریش کے لیے رینجرز بھی پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
کراچی:
کراچی میں جاری مسلسل بارشوں کے نتیجے میں شہر کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال نے سنگین رخ اختیار کر لیا ہے، جس کے پیش نظر پاکستان رینجرز سندھ کے اہلکار بھی ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لینے کے لیے متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ملیر، ایم نائن موٹروے، سہراب گوٹھ، خمیسو گوٹھ، لیاری ندی، ملیر ندی اور مچھر کالونی سمیت متاثرہ علاقوں میں رینجرز کے افسران اور اہلکار پہنچ چکے ہیں اور ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، ایدھی فاؤنڈیشن سمیت دیگر اداروں کے ساتھ مل کر امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ڈی جی رینجرز سندھ کی ہدایت پر رینجرز اہلکاروں کو متاثرہ علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے جہاں وہ پھنسے ہوئے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے ٹریفک کی روانی بحال کرنے اور امدادی اشیاء کی تقسیم جیسے کاموں میں مصروف ہیں۔
رینجرز حکام کے مطابق افسران اور اہلکار مکمل طور پر الرٹ ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ ضرورت پڑنے پر مزید نفری بھی تعینات کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: متاثرہ علاقوں میں
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :