بلوچستان میں شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ این ڈی ایم اے کا ہائی الرٹ
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے بلوچستان کے جنوبی اور مشرقی اضلاع میں اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کی پیش گوئی کے پیش نظر سیلاب کا ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
محکمہ موسمیات اور این ڈی ایم اے کے مطابق، لسبیلہ، حب، خضدار، اواران، بارکھان، سوئی، سبی، ڈیرہ بگٹی، نصیرآباد، کوہلو، قلات، ژوب، کیچ، گوادر، پسنی، اورماڑہ، سوراب اور جنوبی واشک کے علاقوں میں شدید بارشوں کا امکان ہے جو مقامی آبادی اور انفراسٹرکچر کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
این ڈی ایم اے حکام کے مطابق شدید بارشوں کے نتیجے میں وڈھ، خضدار، بیلا، اورماڑہ اور ہنگول ویلی کے برساتی ندی نالوں میں طغیانی کا قوی خدشہ ہے ان علاقوں میں پانی کے بہاؤ کی شدت کچے مکانات، زرعی زمینوں فصلوں اور رابطہ سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے خاص طور پر ندی نالوں کے قریب واقع دیہاتوں اور کمزور ڈھانچوں کو زیادہ خطرہ لاحق ہے۔
حکام نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ گزشتہ برسوں میں اس طرح کی بارشوں نے بلوچستان کے کئی علاقوں میں تباہی مچائی تھی جس کے پیش نظر حکام نے اس بار پیشگی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
این ڈی ایم اے نے مقامی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ امدادی ٹیمیں تشکیل دیں ایمرجنسی شیلٹرز تیار کریں اور متاثرہ علاقوں میں رابطہ سڑکوں کی بحالی کے لیے تیاری رکھیں۔ اس کے علاوہ، عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے مکمل طور پر گریز کریں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں سیلابی صورتحال کا خطرہ ہے۔
حکام نے کمزور تعمیرات، بجلی کے کھمبوں اور درختوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ گاڑیوں کو محفوظ مقامات پر پارک کرنے اور پانی سے بھری سڑکوں یا انڈرپاسز کو عبور کرنے سے اجتناب کرنے کی تلقین کی ہے۔
محکمہ موسمیات کے ایک سینئر عہدیدار نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ مون سون کے اس تازہ سلسلے کی وجہ سے ساحلی علاقوں خصوصاً کیچ، گوادر اور پسنی میں بھی شدید بارشوں کا امکان ہے جو سمندری طوفانوں یا فلش فلڈز کا باعث بن سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ کسان اپنی فصلوں کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کریں اور مقامی آبادی واٹر چینلز سے دور رہے این ڈی ایم اے نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ساتھ مل کر ہنگامی رابطہ مراکز قائم کر دیے ہیں جہاں سے عوام موسمی حالات اور حفاظتی ہدایات سے متعلق تازہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
مقامی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ برساتی نالوں کے قریب موجود آبادیوں کو پیشگی اطلاع دیں اور ممکنہ طور پر انخلاء کے منصوبوں پر عمل درآمد شروع کریں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بلوچستان میں سیلاب اور بارشوں کی شدت میں اضافہ ہوا ہے جس نے صوبے کے بنیادی ڈھانچے اور معیشت کو شدید متاثر کیا ہے۔
این ڈی ایم اے نے عوام سے گزارش کی ہے کہ وہ موسمیاتی اطلاعات پر گہری نظر رکھیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قریبی امدادی مراکز سے رابطہ کریں۔
حکام کا کہنا ہے کہ پیشگی تیاری اور عوامی تعاون سے ممکنہ نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہےعوام سے گزارش ہے کہ وہ حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں اور کسی بھی غیر معمولی صورتحال کی اطلاع فوری طور پر مقامی حکام کو دیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈی ایم اے علاقوں میں ہے کہ وہ
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔