خیبرپختونخوا میں 8ہزار سے زیادہ فتنہ الخوارج دہشتگرد موجود ہیں، سرکاری حکام کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
خیبرپختونخوا میں 8ہزار سے زیادہ فتنہ الخوارج دہشتگرد موجود ہیں، سرکاری حکام کا انکشاف WhatsAppFacebookTwitter 0 9 September, 2025 سب نیوز
پشاور(سب نیوز) سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں 8ہزار سے زیادہ فتنہ الخوارج دہشتگرد موجود ہیں جو عام آبادی میں پناہ لے کر فورسز پر حملے کرتے ہیں۔
سرکاری حکام کے مطابق فتنہ الخوارج غیرمعروف راستوں کے ذریعے افغانستان سے پاکستان آئے ہیں، 8ہزار سے زائد دہشتگرد پشاور، ٹانک، ڈی آئی خان، بنوں، لکی مروت، سوات، شانگلہ اورضم اضلاع میں ہیں جب کہ باجوڑ اور خیبر میں 800سے زیادہ دہشتگرد موجود ہیں۔ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگرد سی پیک روڈ، ڈی آئی خان تا بنوں اور ٹانک میں ناکے بھی لگاتے ہیں، عام آبادی میں پناہ لیے دہشتگرد سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں جس کے باعث سکیورٹی فورسز کو جوابی کارروائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جوابی کارروائی میں مسائل کے باعث فورسز نے جانی نقصان بھی اٹھایا ہے۔
حکام کا بتانا ہے کہ وزیراعلی کے پی کی زیرصدارت جرگوں میں قبائلی عمائدین افغانستان سے دہشتگردوں کی دراندازی پر نالاں تھے، قبائلی عمائدین نے وزیراعلی سے دراندازی کا معاملہ افغان حکومت کے ساتھ اٹھانے کا مطالبہ کیا۔ سرکاری حکام کے مطابق شمالی وزیرستان اورباجوڑ میں چند ہفتوں میں سکیورٹی فورسز نے دراندازی کرنے والے 80 دہشتگردوں کو ہلاک کیا۔
اس حوالے سے آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا کہ کے پی میں فتنہ الخوارج کی موجودگی اور دہشتگرد کارروائیوں سے آگاہ ہیں، ڈی آئی خان، لکی مروت، باجوڑ، وزیرستان، خیبر، بنوں اور دیر میں متعدد خوارج کو ہلاک کیا گیا ہے جب کہ گزشتہ ماہ 190 آپریشنز میں 39 خوارج کو مارا اور 110 کو گرفتار کیا گیا۔آئی جی ذوالفقارحمید نے کہا کہ فتنہ الخوارج کی جانب سے سڑکوں پر ناکے لگانے کا سختی سے نوٹس لیا ہے، سی پیک پر موٹروے پولیس کے ساتھ مل کر دن رات گشت شروع کردیا ہے۔
دوسری جانب مشیراطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ دہشتگرد افغانستان سے آرہے ہیں جن کے خلاف لڑ رہے ہیں، حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فتنہ الخوارج کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعمران خان صرف انتشار چاہتا ہے، تحریک انصاف کا سیاسی کیریئرختم ہوچکاہے، راناثنااللہ عمران خان صرف انتشار چاہتا ہے، تحریک انصاف کا سیاسی کیریئرختم ہوچکاہے، راناثنااللہ دریائے چناب میں ملتان کے مقام پر سیلابی صورتحال برقرار، شہرکو بچانے کیلئے شیرشاہ بند کو توڑنے کا فیصلہ وزیراعظم کا ٹیکس دہندگان کو کاروبار دوست ماحول دینے اور ٹیکس چوروں کو پکڑنے کا حکم صدر مملکت آصف علی زرداری کا رواں ہفتے چین جانے کا امکان، تیاریاں شروع مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ 250 ووٹ لے کر پنجاب کی نشست سے سینیٹر منتخب ہو گئے حکومت نے آئی ایم ایف کی ایک اور بڑی شرط پوری کر دی،گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ اور درآمدات کو ریگولیٹ کرنے کا بل کمیٹی سے...
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: دہشتگرد موجود ہیں سرکاری حکام کا فتنہ الخوارج سے زیادہ
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔