کراچی کے مغرب میں بارشوں کا سسٹم موجود؛ آج بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
کراچی:
کراچی میں بارشوں کا سبب بننے والا سسٹم اس وقت شہر کے مغرب میں تقریباً 50 کلومیٹر کی دوری پر موجود ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آج بدھ کے روز بھی شہر کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان برقرار رہے گا، جبکہ بعض مقامات پر موسلا دھار بارشوں کے اسپیلز بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے ماہر انجم نذیر ضیغم نے بتایا کہ بارشوں کا سبب بننے والا یہ ڈپریشن آج مزید کمزور ہوگا اور کمزور ہونے کے بعد یہ طاقتور کم ہوا کے دباؤ یعنی ’ویل مارک ایریا‘ میں تبدیل ہوجائے گا۔ ماہرین کے مطابق بارش کا یہ سسٹم جمعرات کو بحیرہ عرب کی جانب منتقل ہوجائے گا۔
سسٹم کی سمندر کی طرف منتقلی کے بعد کراچی میں بارشوں کی شدت میں کمی واقع ہوگی اور شہر میں صرف ہلکی بارش، پھوار اور بونداباندی کے امکانات برقرار رہیں گے، تاہم، آج شام اور رات کے اوقات میں بعض علاقوں میں تیز بارش کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق شہریوں کو احتیاط برتنے کی ضرورت ہے کیونکہ نشیبی علاقوں میں بارش کے پانی کے جمع ہونے کا خدشہ موجود ہے، جب کہ چند مقامات پر بارش کے دوران تیز ہوا کے جھکڑ بھی چل سکتے ہیں۔
انجم نذیر ضیغم کے مطابق یہ سلسلہ جمعرات کی رات کے بعد مزید کمزور پڑ جائے گا اور شہر میں موسم نسبتاً بہتر ہونا شروع ہوجائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔