اسرائیل نے دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر اپنایا ہوا ہے، ترکی کا دوحہ حملے پر ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
انقرہ: ترکی نے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر اسرائیلی فضائی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کے مذاکراتی وفد کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل جنگ ختم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
ترک وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جنگ بندی پر بات چیت کے دوران اسرائیلی حملہ امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل نے خطے میں اپنی توسیع پسندانہ پالیسی اور دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر اپنایا ہوا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے دوحہ میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے دفتر کو نشانہ بنایا۔ عرب میڈیا کے مطابق حملے کے وقت حماس کے متعدد رہنماؤں کا اجلاس جاری تھا، جس میں خالد مشعل، خلیل الحیہ، زاہر جبارین، محمد درویش اور ابو مرزوق شریک تھے۔
حماس ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں امریکی صدر کی جنگ بندی تجویز پر غور کیا جا رہا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔