پنجاب: قدرتی آفات کے دوران انسانوں کو ریسکیو کرنے کے لیے پہلے ایئر لفٹ ڈرون کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
پنجاب حکومت نے قدرتی آفات کے دوران متاثرین کو ریسکیو کرنے کے لیے ائیر لفٹ ڈرون حاصل کر لیا ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے ترجمان کے مطابق اپنی طرز کی پاکستان کی پہلی ایمرجنسی ڈرون سروس ہے جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں انسانوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب میں بنجر زمینوں کو سرسبز بنانے کے لیے ہائیڈروسیڈنگ ٹیکنالوجی کا آغاز
محکمہ داخلہ پنجاب کے ترجمان کے مطابق یہ ڈرون 200 کلوگرام تک وزنی شخص کو ائیرلفٹ کرکے محفوظ مقام تک منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سیکرٹری داخلہ نے اس ڈرون کو فوری طور پر سیلاب میں پھنسے افراد کے ریسکیو کے لیے ملتان بھجوانے کی ہدایت کی ہے۔
اس سے قبل لاہور میں سول ڈیفنس نے ڈرون کی کامیاب ٹیسٹ فلائٹس مکمل کی ہیں۔
سیکرٹری داخلہ پنجاب نے بتایا کہ سول ڈیفنس کے لیے مزید 10 جدید ڈرونز خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی قدرتی آفت یا ہنگامی صورتحال میں بروقت امدادی کارروائیاں ممکن ہو سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سول ڈیفنس کے اہلکار اور رضاکار حقیقی معنوں میں ‘فرنٹ لائن سولجرز’ ہیں جو انسانی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: قدرتی آفات: پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا نے جدید ڈرونز ریسکیو 1122 کے حوالے کردیے
انہوں نے مزید بتایا کہ ‘پنجاب سول ڈیفنس ریزیلئنس کور’ کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے اور شہریوں کی بطور رضاکار رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔ صرف رواں ہفتے کے دوران 4 ہزار سے زائد افراد نے رجسٹریشن کروائی ہے۔ شہری اپنی صلاحیت کے مطابق بطور رضاکار خدمات سر انجام دے سکتے ہیں اور آن لائن پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن ممکن ہے۔
سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ جدید آلات اور بین الاقوامی معیار کی تربیت سے پنجاب سول ڈیفنس کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے ہم پلہ بنایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Rescue Drone ایئرلفٹ ڈرون ڈرون ڈرون ٹیکنالوجی ریسکیو ڈرون.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایئرلفٹ ڈرون ڈرون ٹیکنالوجی ریسکیو ڈرون سول ڈیفنس کے لیے
پڑھیں:
بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر اور سوشل میڈیا کانٹینٹ کریئٹر 30 سالہ ایڈریانا گارشیا (Adriana Garcia)کاسمیٹک سرجری کے دوران پیش آنے والی پیچیدگیوں کے باعث چل بسی۔
رپورٹس کے مطابق ایڈریانا گارشیا کا منگل کے روز ریاست سینالووا کے ایک نجی کلینک میں کاسمیٹک آپریشن کیا جا رہا تھا، جہاں دورانِ سرجری پیچیدگیاں پیدا ہونے کے بعد ان کی موت واقع ہوگئی،مقامی حکام نے تاحال موت کی سرکاری وجہ جاری نہیں کی، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
واقعے کے بعد حکام نے سرجری کے دوران پیش آنے والے حالات اور ممکنہ طبی غفلت کے پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ایڈریانا گارشیا کے انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 90 ہزار سے زائد فالوورز تھے، ان کے انتقال کی تصدیق میکسیکو کی کمپنی نے بھی کی، جس کے ساتھ وہ بطور انفلوئنسر کام کرتی تھی۔