سپریم کورٹ میں سپر ٹیکس کیس کی سماعت؛ ججز اور وکلا کے درمیان بحث میں سخت سوالات
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
سپریم کورٹ میں سپر ٹیکس کیس کی سماعت کے دوران ججز اور وکلا کے درمیان بحث میں سخت سوالات سامنے آئے۔
سپر ٹیکس پر دورانِ سماعت عدالت میں ججز اور وکلا کے درمیان سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہا جس میں ٹیکس کی نوعیت، اس کے اثرات اور ٹیکس دہندگان میں تفریق پر مختلف پہلوؤں پر بحث ہوئی۔
ایف بی آر کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ سندھ ہائیکورٹ نے اپنا فیصلہ سابقہ عدالتی فیصلوں کی بنیاد پر دیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سپر ٹیکس صرف ان اداروں پر لاگو کیا گیا ہے جن کی آمدن 300 ملین روپے سے زائد ہے۔ یہ ٹیکس 15 منتخب شعبوں پر لگایا گیا ہے اور کسی کمپنی نے اب تک مالی استطاعت نہ ہونے کا جواز پیش نہیں کیا۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پارلیمان نے ٹیکس دہندگان میں تفریق کیوں رکھی؟ ٹیکس کا بنیادی مقصد حکومتی آمدن میں اضافہ ہوتا ہے مگر ایسے اقدامات سے ٹیکس دینے والوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور وہ سرمایہ بیرون ملک منتقل کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیصلوں میں ٹیکس کی تفریق کی وجوہات واضح نہیں کی گئیں اور اس خلا کو پر کرنا ضروری ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ٹیکس کا اصل بوجھ بالآخر صارف اور عام آدمی پر ہی منتقل ہوتا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ چاہے سیمنٹ کی بوری ہو یا ایل این جی کا ایک بوجھ، اثر عوام ہی پر پڑتا ہے۔ عوام کے لیے سہولتیں پیدا کی جائیں گی تو کاروبار آگے بڑھے گا، بصورت دیگر مشکلات برقرار رہیں گی۔
وکیل عاصمہ حامد نے مؤقف اپنایا کہ سندھ ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے سناتے وقت کوئی ڈیٹا طلب نہیں کیا۔ اس پر جسٹس مندوخیل نے کہا کہ مقدمہ صرف اتنا ہے کہ آخر ٹیکس دہندگان میں فرق کیوں رکھا گیا اور اس سوال کا تسلی بخش جواب دیا جانا لازمی ہے۔
دوران سماعت یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ انکم ٹیکس اور سپر ٹیکس کی تعریفیں الگ ہیں اور یہ ٹیکس دیگر محصولات کے ساتھ ہی متعارف کرایا گیا تھا، تاہم ججز نے زور دیا کہ جب تک پالیسی کی وجوہات واضح نہ ہوں، ٹیکس دہندگان میں تفریق کی قانونی حیثیت سوالیہ نشان رہے گی۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے سپر ٹیکس سے متعلق اہم مقدمے کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹیکس دہندگان میں سپر ٹیکس ٹیکس کی کہا کہ
پڑھیں:
امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔ ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایران کے معاملے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ سینیٹ میں پیشی کے موقع پر کوری بُکر نے کہا کہ آخر امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے۔؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے کہا کہ ڈیل بھی ایسی جسے خود امریکا ہی پہلے کچرے کے ڈبے میں پھینک چکا تھا۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کی ہوئی ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔
ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی میٹنگز ایک مہینہ، دو مہینے یا تین مہینوں تک بھی چل سکتی ہے۔ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کی تلفی کے حوالے سے مذاکرات کا عہد کرنا ہوگا۔ مارکو روبیو کے مطابق آج ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے جن پہلووں پر بات کرنے کو راضی ہوگیا ہے، پہلے ان پر انکاری تھا۔