سویڈن کی وزیر صحت کی پہلی پریس کانفرنس میں طبیعت بگڑ گئی؛ اسٹیج پر بیہوش ہوگئیں
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
سویڈن میں حال ہی میں وزیرِ صحت ایلیزابیت لان اپنی پہلی ہی پریس کانفرنس میں بے ہوش ہوکر اسٹیج پر گر گئیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب وزیراعظم اُولف کرسٹرشَن اور وزیرِ توانائی و صنعت ایبا بُش اُن کے ساتھ کھڑے تعارف کروا رہے تھے۔
جیسے ہی وزیر صحت ایلیزابیت لان ڈگمگائیں، ساتھی وزیر ایبا بُش فوراً آگے بڑھیں اور ان کی سہارا دینے کی کوشش کی۔
یہ منظر کیمروں میں قید ہو کر لمحوں میں خبروں کی زینت بن گیا۔
پریس کانفرنس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیر صحت ایلیزابیت لان نے خود ہی ہلکا سا طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی عام منگل نہیں تھا۔ کبھی کبھار شوگر لیول ڈراما کرا دیتا ہے۔
ان کے اس جملے نے سنجیدہ ماحول کو مزاح میں تبدیل کردیا۔
ابھی تک یہ تو واضح نہیں کہ اس اچانک گرنے سے وہ زخمی ہوئیں یا نہیں، مگر غیر ملکی میڈیا اور ان کے مداحوں کے مطابق یہ انٹری یقینا ʼیادگارʼ ثابت ہوئی۔
سوشل میڈیا پر صارفین مزاحیہ تبصرے کر رہے ہیں کہ "سویڈش ہیلتھ منسٹر نے ہیلتھ ایشو سے ہی اننگز شروع کی!"
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔