ملتان، سیلاب متاثرین سے زائد کرایہ وصول کرنے والے نجی کشتی مالکان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
ملتان:
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے مطابق سیلاب متاثرین سے آمدورفت کے لیے زائد کرایہ وصول کرنے والے نجی کشتی مالکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ شکایات موصول ہوئی کہ نجی کشتی مالکان سیلاب متاثرین سے زائد کرائے وصول کر رہے ہیں اس لیے فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔
Immediate action was taken following complaints of private boat operators overcharging flood victims in Multan.
مریم نواز نے واضح کیا کہ نجی کشتی مالکان کی خدمات کا معاوضہ پنجاب حکومت خود ادا کرے گی اور متاثرین سے کسی بھی قسم کی رقم وصول نہیں کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے احکامات کے مطابق اب سیلاب زدہ علاقوں میں کام کرنے والی تمام نجی کشتیاں حکومت کی نگرانی میں چلائی جائیں گی، تاکہ متاثرین کو کسی قسم کی مالی پریشانی یا استحصال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
یہ پیشرفت ایک رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہوئی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ جلال پور پیروالہ سمیت دیگر متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد سے ریسکیو اور نقل و حمل کی سہولیات کے عوض اضافی رقم وصول کی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نجی کشتی مالکان متاثرین سے
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔