WE News:
2026-06-03@03:23:44 GMT

حملہ آور کی زبان کاٹنے والی خاتون 61 سال بعد باعزت بری

اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT

حملہ آور کی زبان کاٹنے والی خاتون 61 سال بعد باعزت بری

جنوبی کوریا کی عدالت نے 61 برس بعد ایک خاتون کو اس الزام سے باعزت بری کر دیا جس کے تحت انہیں محض 18 برس کی عمر میں جیل جانا پڑا تھا۔ یہ مقدمہ اس وقت دنیا بھر میں جنسی تشدد کے متاثرین کی جدوجہد اور خود دفاع کے حق کی علامت بن چکا ہے۔

1963 میں، جنوبی قصبے گِمہے میں 18 سالہ چوئے مال-جا پر ایک نوجوان نے حملہ کیا۔ عدالت کے ریکارڈ کے مطابق، حملہ آور نے انہیں دبوچ کر زمین پر گرا لیا۔ جان بچانے کے لیے چوئے نے اس کی زبان کا تقریباً ڈیڑھ سینٹی میٹر حصہ کاٹ کر خود کو آزاد کرایا۔

اُس وقت کے سماجی اور عدالتی رویوں نے متاثرہ خاتون  ہی کو مجرم بنا دیا۔ عدالت نے ان کے اقدام کو ’حد سے متجاوز دفاع‘ قرار دیتے ہوئے انہیں 10 ماہ قید سنائی، جسے بعدازان معطل کردیا گیا جب کہ 21 سالہ حملہ آور کو صرف 6 ماہ قید دی گئی۔ مجرم کو کبھی بھی ریپ کے الزام میں فردِ جرم نہ سنائی گئی۔

انصاف کے لیے جدوجہد

چوئے کو 6 ماہ قیدِ تنہائی کاٹنا پڑی اور زندگی بھر سماجی بدنامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے مجھے متاثرہ خاتون سے ملزم میں بدل دیا۔ لوگ کہتے تھے کہ یہ انڈے سے پتھر مارنے کے مترادف ہے، لیکن میں خاموش نہ رہ سکی۔

یہ بھی پڑھیں: 74 سالہ بوڑھے نے مخالف کو پھنسانے کے لیے خاتون جج کو انوکھا خط لکھ دیا

2018 میں عالمی  MeToo تحریک سے متاثر ہو کر انہوں نے خواتین کی تنظیموں سے رابطہ کیا، شواہد اکٹھے کیے اور دوبارہ مقدمے کی درخواست دی۔ ابتدائی طور پر نچلی عدالتوں نے اسے مسترد کر دیا، لیکن دسمبر 2024 میں سپریم کورٹ نے ری ٹرائل کا حکم دیا۔

بالآخر انصاف

بدھ کو بوسان کی عدالت نے 79 سالہ چوئے کو باعزت بری کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف دی گئی سزا عدالتی غلطی تھی۔ پراسیکیوٹرز نے بھی پہلی ہی سماعت میں معافی مانگتے ہوئے سزا ختم کرنے کی درخواست کی تھی۔

عدالت کے باہر چوئے کے حامی خوشی سے نعرے لگا رہے تھے
’چوئے مال جا نے کر دکھایا!‘

چوئے نے اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ ریاست کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کریں گی۔

سماجی اثرات

خواتین کے حقوق کی تنظیم کوریا ویمنز ہاٹ لائن نے اس فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب خواتین کے دفاعی اقدامات کو جائز سمجھا جائے گا۔

مزید پڑھیے: شادی کے بعد غائب ہونے والا شوہر برسوں بعد انسٹاگرام ریلز پر دوسری عورت کے ساتھ نظر آگیا


تنظیم کی سربراہ سونگ ران ہی نے کہا کہ یہ پیغام ہے کہ متاثرین کی آواز اہم ہے، چاہے راستہ کتنا ہی مشکل اور ناانصافی سے بھرا کیوں نہ ہو۔

ماضی کے دیگر مقدمات

دلچسپ بات یہ ہے کہ جنوبی کوریا میں اس نوعیت کے کم از کم 2 مزید واقعات ہوئے، 1988 میں اندونگ اور 2020 میں بوسان میں، جن میں عدالت نے خواتین کے اقدام کو جائز دفاع قرار دیا اور ان کے حق میں فیصلہ دیا۔

یہ فیصلہ نہ صرف ’چوئے مال جا‘ کے لیے انصاف ہے بلکہ جنوبی کوریا میں جنسی تشدد کے متاثرین کے لیے بھی ایک سنگ میل ثابت ہو رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جنوبی کوریائی خاتون.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جنوبی کوریائی خاتون جنوبی کوریا عدالت نے کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور

سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔

کراچی: پنکی کے بعد مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں گرفتار

پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔

ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔

اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔

اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

ملزمہ  کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار