ٹیکساس کی ایئرلائنز کا بوئنگ طیارہ انجن فیل، ہنگامی لینڈنگ
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
امریکی ریاست ٹیکساس کی ایک ایئرلائنز کے بوئنگ طیارے کا انجن اچانک فیل ہوگیا تاہم عملے کی بروقت حکمتِ عملی کے باعث بڑے حادثے سے بچاؤ ممکن ہوا۔
تفصیلات کے مطابق طیارہ معمول کی پرواز پر تھا کہ دورانِ پروازانجن میں تکنیکی خرابی پیدا ہوگئی، کپتان نے فوری طورپرطیارے کا رخ بدل کر اسے لاس اینجلس ایئرپورٹ کی جانب موڑ دیا۔
ایئر ٹریفک کنٹرول اورریسکیو ٹیموں کو ہنگامی صورتحال سے آگاہ کیا گیا تاکہ کسی بھی ناخوشگوارواقعے کی صورت میں فوری امداد فراہم کی جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق طیارہ بحفاظت لاس اینجلس ایئرپورٹ پر اتار لیا گیا اور تمام مسافر وعملہ محفوظ رہے، ایئرلائنز نے تصدیق کی ہے کہ واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
امریکی ایوی ایشن حکام نے انجن فیل ہونے کے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اورکہا ہے کہ بوئنگ کمپنی اور ایئرلائنز کے انجینئرزکو بھی تکنیکی جانچ میں شامل کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔