Express News:
2026-06-03@03:03:20 GMT

سیلابی المیہ

اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT

موسمیاتی تغیرات نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ترقی پذیر سے لے کر ترقی یافتہ ممالک تک سب بدلتے ہوئے موسموں سے کسی نہ کسی صورت متاثر ہو رہے ہیں۔ زلزلے، بارشیں اور سیلاب نے نہ صرف یہ کہ ملکوں کی معاشی سرگرمیوں کو بگاڑا ہے بلکہ عوام الناس کی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں تباہی و بربادی سے گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔

بجا کہ قدرتی آفات انسانوں کے لیے آزمائشیں ہوتی ہیں لیکن یہ حقیقت بھی اظہرمن الشمس ہے کہ پیش آمدہ خطرات سے آگاہی حاصل کرکے اگر قبل از وقت اس کے تدارک کا سامان اور حفاظتی اقدامات کر لیے جائیں تو قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کی شدت نہ صرف کم ہو جاتی ہے بلکہ متاثر ہونے والے عام لوگوں کی مشکلات اور مسائل میں بھی کمی ہو جاتی ہے۔ حکمرانوں کی اولین ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ جن لوگوں کے ووٹوں سے منتخب ہو کر اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوتے ہیں ان کے مسائل و مشکلات کے حل کے لیے اپنے دعوؤں اور وعدوں کے مطابق پالیسیاں بنائیں اور ایسی دیرپا منصوبہ بندی کریں کہ جن سے عوام الناس کو فیض پہنچے

۔ ہمارا المیہ اور دکھ یہ ہے کہ ہم اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت تو بن گئے، ہم نے جنگی میدان میں ایسی بے مثال مہارت حاصل کر لی کہ محض چار دن کی جنگ میں اپنے سے چار گنا بڑے اور طاقتور دشمن کو عبرت ناک شکست سے دوچار کرکے پوری دنیا پر اپنی عسکری قوت کی دھاک بٹھا دی۔ لیکن سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی اپنے ہم وطنوں کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے میں آج تک ناکام چلے آ رہے ہیں۔

ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر گیا، خیبرپختونخوا سے لے کر گلگت بلتستان تک اور پنجاب سے لے کر صوبہ سندھ تک ہزاروں ایکڑ زمین سیلابی پانیوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔ مون سون سیزن کی مسلسل بارشوں، بادلوں کے پھٹنے اور گلیشیئر کے پگھلنے سے سیلابی ریلوں نے گاؤں کے گاؤں پانیوں میں ڈبو دیے لوگوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی بہہ گئی، کھڑی فصلیں برباد ہو گئیں، کسانوں کا ناقابل تلافی نقصان ہو رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے وقفے وقفے سے چناب، ستلج، راوی میں پانی چھوڑے جانے کے باعث سیلاب کی شدت میں تیزی آتی جا رہی ہے۔

پنجاب کا آدھے سے زائد حصہ پانیوں میں ڈوبا ہوا ہے بڑے شہروں کو بچانے کے لیے بند توڑ کر سیلابی پانی کو آس پاس کے گاؤں دیہات میں دھکیلا جا رہا ہے جس سے غریب اور مفلوک الحال لوگوں کے کچے مکانات پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ رابطہ سڑکیں، اسکول، کالج، بازار غرض ہر ایک شے اس بری طرح تباہ و برباد ہو گئی ہے کہ اس کی تعمیر نو میں بھی ایک عرصہ درکار ہوگا۔اخباری اطلاعات، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سیلاب سے متاثر ہونے والے غریب لوگ کیمپوں میں بے سہارا و بے یار و مددگار کتنی مشکل زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، وفاقی اور پنجاب حکومت اپنے طور پر امدادی کاموں میں بساط بھر کوشش کر رہی ہے۔

پاک فوج کے دستے بھی سیلابی ریلوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں پیش پیش ہیں۔ دیگر سماجی تنظیمیں بھی اپنے اپنے طور پر پنجاب کے مختلف علاقوں میں امدادی کام کر رہی ہیں۔ امریکا، چین اور دیگر ممالک سے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان بھی آ رہا ہے۔ اس کے باوجود نقصانات اس قدر زیادہ اور ان کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ متاثرین سیلاب کی مکمل بحالی میں سالوں کا عرصہ درکار ہے۔

ماضی کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ 2022 میں آنے والے سیلاب سے جو بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے تھے ان کا ازالہ آج تک نہ ہو سکا اور متاثرین آج بھی سوالیہ نظروں سے حکمرانوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ مستقبل میں اگر ہم سیلابی تباہ کاریوں سے بچنا چاہتے ہیں تو بارشوں کا پانی ذخیرہ کرنے کے لیے فوری طور چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعمیر کا آغاز کرنا ہوگا۔ متنازع ڈیموں کی تعمیر کے لیے سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی جانی چاہیے۔ سات دہائیاں گزر گئیں حکمران اپنے لوگوں کو سیلابی پانیوں میں ڈوبنے سے بچانے کے لیے کوئی جامع اور ٹھوس منصوبہ بندی نہ کر سکے جو آج کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پانیوں میں کے لیے

پڑھیں:

اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب

پنجاب اسمبلی (فائل فوٹو)۔

اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے  کے لیے پنجاب اسمبلی میں ارکان کے لیے جدید ٹیبلٹس انسٹال کر دییے گئے۔ 

لاہور سے ترجمان پنجاب اسمبلی کےمطابق  صوبائی اسمبلی کا اگلا اجلاس پیپر لیس ہو گا، 380 ٹیبلٹس یورپین یونین کے آئی پی 5 پروگرام کے تحت پنجاب اسمبلی کو فراہم کیے گئے۔ 

ترجمان کے مطابق ایپلیکیشن پی آئی ٹی بی نے محکمہ قانون اور اسمبلی آئی ٹی ٹیم کی مشاورت سے تیار کیا، جو صرف اسمبلی کارروائی کے لیے ہے۔ 

چوہدری عامر حبیب کے مطابق اس فیصلہ سے گرین انرجی کے تحت توانائی کی بچت بھی ہو گی۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق