جج صاحبان کو اپنے تحفظات سرعام بیان کرتے ہوئے احتیاط برتنی چاہیے، وزیر قانون
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایک احتیاطی مشورہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے ججز پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اندرونی تحفظات کو خطوط کے ذریعے عوام کے سامنے لانے کے بجائے چائے کے کمرے، چیف جسٹس کے چیمبر یا کمیٹی رومز جیسے نجی فورمز میں اجاگر کریں۔
نجی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ’عدلیہ جیسے اعلیٰ ادارے کی حساسیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے میری عاجزانہ درخواست ہے کہ معزز جج صاحبان کے لیے اپنے خدشات کے اظہار کا بہترین فورم ان کے چائے خانے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے چیمبر یا کمیٹی رومز ہیں‘۔
یہ وزیر قانون کا سپریم کورٹ کے کئی ججوں کے حالیہ خطوط پر پہلا ردِعمل تھا، جسے انہوں نے ’بدقسمتی‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ ایک تشویشناک رجحان ہے جو گزشتہ چند ماہ سے دیکھنے میں آرہا ہے۔
اسلام آباد میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی ایک تقریب کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں انہوں نے یاد دلایا کہ رواں ہفتے کے آغاز پر نئے عدالتی سال کی تقریب میں بھی پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن جیسے اعلیٰ قانونی اداروں نے ججوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ایسے معاملات کو عوامی خطوط کے بجائے نجی سطح پر حل کریں۔
وزیر قانون نے کہا کہ ’یہ عدلیہ کے مفاد میں نہیں ہے کیونکہ ایسی روش سپریم کورٹ کی وقار اور ساکھ کو مجروح کرتی ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان خطوط میں اٹھائے گئے خدشات واقعی اندرونی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں تو انہیں ادارہ جاتی دائرہ کار کے اندر ہی حل کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بار کونسلز ہمیشہ عدلیہ کے تحفظ کے لیے پیش پیش رہی ہیں اور اس حوالے سے وکلا کی تنظیمیں احتساب کا مناسب پلیٹ فارم ہیں’۔
وزیر قانون کے یہ ریمارکس ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب سینئر جج جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس اطہر من اللہ نے ایک حالیہ خط میں پیر کے روز بلائے گئے فل کورٹ اجلاس پر تنقید کی تھی، جس میں نئے سپریم کورٹ رولز 2025 کی منظوری دی گئی، ان ججوں نے اس اقدام کو محض ایک ’نمائشی مشق‘ قرار دیا۔
خط میں کہا گیا تھا کہ ’اس مرحلے پر فل کورٹ کا اجلاس بلانا نہ صرف حیران کن بلکہ گمراہ کن بھی ہے‘، ان کے بقول اجلاس کا مقصد ایک ’غیر قانونی عمل کو محض قانونی رنگ دینا‘ تھا۔
اس سے قبل ایک اور خط میں جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا تھا کہ آیا چیف جسٹس، عدلیہ کی آزادی کو فروغ دے رہے ہیں یا محض اطاعت حاصل کرکے عدالت کو ’ایک رجمنٹڈ فورس‘ میں بدلنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ یہ خط لکھنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے تھے لیکن ایک ’ناقابلِ اجتناب ادارہ جاتی فریضے‘ کے تحت ایسا کرنا ضروری تھا۔ ان کے بقول ’آپ کی مسلسل اور مکمل بے اعتنائی نے مجھے لکھنے پر مجبور کیا ہے‘۔
انہوں نے شکوہ کیا تھا کہ ان کے اہم معاملات پر بھیجے گئے بار بار خطوط اور پیغامات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ انہوں نے کہا کہ تھا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔