نور مقدم قتل کیس: مجرم ظاہر جعفر کی نظرِ ثانی اپیل پر سماعت کیوں ملتوی ہوئی؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر جعفر کی نظرِ ثانی اپیل پر سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کی۔
سماعت کے دوران ظاہر جعفر کے نئے وکیل ایڈووکیٹ خواجہ حارث عدالت میں پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: نور مقدم قتل کیس: سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری، ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار
جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ پہلے تو سلمان صفدر وکیل تھے، کیا نظرِ ثانی کی اپیل میں وکیل تبدیل ہو سکتا ہے۔
ایڈووکیٹ خواجہ حارث نے مؤقف اختیار کیا کہ قانون تبدیل ہو چکا ہے اور اب نظرِ ثانی میں وکیل تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
جس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ کیا قانون کسی مخصوص شخص کے لیے بدلا گیا ہے یا کسی اصول کے تحت تبدیل ہوا ہے؟
مزید پڑھیں: نور مقدم قتل کیس میں کب کیا ہوا؟
جسٹس ہاشم کاکڑ نے مزید کہا کہ اس کیس کا فیصلہ انہوں نے خود تحریر کیا ہے لیکن جسٹس علی باقر نجفی کا ایڈیشنل نوٹ آنا باقی ہے۔
انہوں نے ایڈووکیٹ خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے جسٹس علی باقر نجفی کے ایڈیشنل نوٹ سے انہیں کوئی فائدہ حاصل ہو جائے۔
بعد ازاں عدالت نے مذکورہ ایڈیشنل نوٹ آنے تک نورمقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر جعفر کی سزا کیخلاف نظر ثانی کی اپیل پر سماعت ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایڈووکیٹ خواجہ حارث ایڈیشنل نوٹ جسٹس علی باقر نجفی جسٹس ہاشم کاکڑ سلمان صفدر ظاہر جعفر نظر ثانی نور مقدم قتل کیس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایڈووکیٹ خواجہ حارث ایڈیشنل نوٹ جسٹس علی باقر نجفی جسٹس ہاشم کاکڑ ظاہر جعفر نور مقدم قتل کیس ایڈووکیٹ خواجہ حارث نور مقدم قتل کیس جسٹس ہاشم کاکڑ ظاہر جعفر کی ایڈیشنل نوٹ
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔