قصور میں سیلاب زدگان کو سولر پینل نہ ملنے کا الزام، حقیقت کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کے کام جاری ہے، جہاں حکومت سمیت دیگر ملکی اور غیرملکی ادارے بھی مصروف عمل ہیں، تاہم ایسے میں بعض غیرمصدقہ اطلاعات بھی عوامی جذبات کومہمیز دینے کا باعث بن رہی ہیں۔
سیلاب زدگان کے امداد کے حوالے سے سوشل میڈٰیا پر حالیہ پوسٹ میں بعض افراد نے الزام عائد کیا کہ پنجاب کے ضلع قصور میں سیلاب سے متاثرہ آبادی میں امدادی سامان کی تقسیم کے حوالے سے ہیرا پھیری کرتے ہوئے سولر پینل تقسیم نہیں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب کا پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے اظہارِ اخوت، امدادی سامان کے 5 ٹرک پہنچ گئے
جماعت اسلامی کے سابق سیکریٹری اطلاعات قیصر شریف نے سوشل میڈیا پوسٹ پر قصور میں گنڈا سنگھ والا ہائی اسکول میں متاثرین سیلاب میں سعودی عرب کی جانب سے فراہم کردہ امدادی سامان کی تقسیم کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ سیلاب متاثرین کے ساتھ ہاتھ ہو گیا۔
سیلاب متاثرین کے ساتھ ہاتھ ہو گیا
مصدق اطلاعات کے مطابق
قصور گنڈا سنگھ والا ہائی اسکول میں 1500 خاندانوں کے لئے برادر اسلامی ملک سعودیہ عرب سے آنیوالے امدادی سامان میں موجود سولر پلیٹیں سیلاب متاثرین کو نہیں ملی تو کدھر گئیں ؟ کیا پنجاب حکومت اسکا جواب دینا پسند کرئے گی ؟؟ pic.
— Qaisar Sharif (@Qaisarsharif555) September 10, 2025
’مصدقہ اطلاعات کے مطابق قصور گنڈا سنگھ والا ہائی اسکول میں 1500 خاندانوں کے لئے برادر اسلامی ملک سعودیہ عرب سے آنیوالے امدادی سامان میں موجود سولر پلیٹیں سیلاب متاثرین کو نہیں ملی توکدھرگئیں؟ کیا پنجاب حکومت اسکا جواب دینا پسند کرے گی۔‘
مزید پڑھیں:زرعی و ماحولیاتی ایمرجنسی، پیپلز پارٹی کا خیرمقدم، فوری امداد اور عالمی اپیل کا مطالبہ
قیصر شریف کی اس پوسٹ پر سینیئر صحافی وسیم عباسی نے تبصرہ کرتے ہوئے وضاحت کی کہ سعودی ایجنسی کے ایس ریلیف کے مطابق یہ الزام درست نہیں۔
ان کے مطابق، مذکورہ علاقے میں ضرورت کی بنیاد پر بعض سیلاب زدگان کو سولر پلیٹیں دی گئیں اور بعض کوخوراک اور ٹینٹ وغیرہ فراہم کیے گئے۔
فیکٹ چیک: ابھی سعودی ایجنسی کے ایس ریلیف سے بات ہوئی تو معلوم ہوا یہ درست نہیں ہے۔
سعودی ایجنسی ایک ایک متاثرہ شخص کو خود امداد دیتی ہے اور حکومت کا اس میں کوئی کردار نہیں ہوتا ۔ انتظامیہ صرف متاثرین سے ملواتی ہے۔
اس علاقے میں ضرورت کی بنیاد پر لچھ افراد کو سولر پلیٹیں دی گئیں… https://t.co/osmjxkJh9b
— Waseem Abbasi (@Wabbasi007) September 12, 2025
’ابھی سعودی ایجنسی کے ایس ریلیف سے بات ہوئی تو معلوم ہوا یہ درست نہیں ہے، سعودی ایجنسی ایک ایک متاثرہ شخص کو خود امداد دیتی ہے اورحکومت کا اس میں کوئی کردار نہیں ہوتا، انتظامیہ صرف متاثرین سے ملواتی ہے۔‘
مزید پڑھیں: پاکستان میں سیلابوں سے تباہی، بیرونی ممالک اور بین الاقوامی اداروں سے کتنی امداد آئی؟
انہوں نے ایک علیحدہ پوسٹ میں ایک ویڈیو بھی منسلک کی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سعودی امدادی ایجنسی کے سینیئراہلکار قصور کے علاقے گنڈا سنگھ میں لوگوں کو خود سولر پینل تقسیم کررہے ہیں۔
وسیم عباسی کے مطابق اس حوالے سے سوشل میڈیا پرگردش کرتی ’مبینہ خبریں‘ اس ویڈیو کے بعد بے بنیاد ثابت ہوتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایکس پلیٹ فارم پنجاب جماعت اسلامی سعودی امدادی ایجنسی سعودی عرب سوشل میڈیا سیکریٹری اطلاعات سیلاب زد قصور قیصر شریف گنڈا سنگھ والا وسیم عباسی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایکس پلیٹ فارم جماعت اسلامی سعودی امدادی ایجنسی سوشل میڈیا سیکریٹری اطلاعات سیلاب زد قیصر شریف گنڈا سنگھ والا گنڈا سنگھ والا سیلاب متاثرین سعودی ایجنسی ایجنسی کے کے مطابق
پڑھیں:
مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے انسانی و مکینل وسائل بروئے کار لانے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ دریاؤں، ڈیموں اور بیراج پر نہانے پر پابندی یقینی بنائی جائے اور دریاؤں، ڈیموں اور بیراج کی ڈرون سے مانیٹرنگ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بارش اور فلڈ سے آگاہ کرنے کے لیے مساجد اور میڈیا پر اعلانات کیے جائیں۔کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں پر مریم نواز نے لیسکو اور دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نوٹس لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی غفلت کی وجہ سے لوگ جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھمبوں پر بجلی کے بے ہنگم لٹکتے تار انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واسا کمپلینٹ ہیلپ لائن پر فوری ایکشن کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کی۔مریم نواز نے مون سون کے دوران ہر کنسٹرکشن سائٹ کو باقاعدہ محفوظ بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ انتظامیہ خستہ حال عمارتوں کا جائزہ لے کر رضاکارانہ طور پر خالی کروائے۔