صدر آصف زرداری کا جنوبی پنجاب کے سیلاب متاثرین سے اظہار یکجہتی
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
صدر مملکت آصف علی زرداری نے جنوبی پنجاب میں حالیہ سیلاب سے متاثرہ عوام کے ساتھ گہری ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں متاثرین اپنے گھروں سے محروم اور روزگار کے ذرائع سے کٹ چکے ہیں، جو اس قدرتی آفت کی شدت کو اجاگر کرتا ہے۔
صدر زرداری نے یقین دلایا کہ حکومت مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور کسی کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست اپنی تمام تر ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے متاثرین کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب سے بے پناہ جانی اور اقتصادی نقصان ہوا، وزیراعظم کا ملک میں موسمیاتی اور زرعی ایمرجنسی کا اعلان
انہوں نے بتایا کہ ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے کام صوبائی حکومت، مسلح افواج اور فلاحی اداروں کے بھرپور تعاون سے جاری ہیں اور متاثرین کو فوری طور پر بنیادی ضروریات پہنچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ سیلاب سے زراعت اور لائیو اسٹاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں کسانوں اور غذائی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر ملک میں زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: زرعی و ماحولیاتی ایمرجنسی، پیپلز پارٹی کا خیرمقدم، فوری امداد اور عالمی اپیل کا مطالبہ
انہوں نے بتایا کہ زرعی ایمرجنسی چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی درخواست پر نافذ کی گئی ہے تاکہ کسانوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور زرعی شعبے کی جلد بحالی ممکن بنائی جاسکے۔ اس اقدام کا مقصد غذائی تحفظ کو یقینی بنانا اور ملکی معیشت کو سہارا دینا ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے عوام پر زور دیا کہ وہ اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور جاری ریلیف آپریشنز میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ متاثرہ علاقوں کی فوری ضروریات اور طویل المدتی بحالی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آصف علی زرداری بلاول بھٹو زرداری پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب زرعی ایمرجنسی زرعی شعبے سیلاب صدر مملکت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا صف علی زرداری بلاول بھٹو زرداری پیپلز پارٹی زرعی ایمرجنسی سیلاب صدر مملکت زرعی ایمرجنسی انہوں نے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔