شہر میں جاری منصوبوں میں تاخیر کے ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہئے، ایم کیو ایم
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
کراچی:
سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا ہے کہ شہر میں جاری منصوبوں میں تاخیر کے ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہئے۔
میڈیا سے گفتگو میں علی خورشیدی نے کہا کہ گزشتہ کئی دنوں سے صوبے میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، لوگوں کو بنیادی ضروریات فراہم کرنا حکومت کی زمہ داری ہوتی ہے، کراچی میں حالیہ بارشوں کے بعد شہر کا انفراسٹرکچر تباہ ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ شہر کی ذمہ داری کئی اتھارٹیز کے پاس ہے، کے ایم سی اور ڈی ایم سی کی کارکردگی اچھی نہیں ہے، صوبے بھر میں لولا لنگڑا بلدیاتی نظام قائم ہے، جب تک مالیاتی خودمختاری نہیں ہوگی شہر کا انتظام بہتر نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے موجودہ شہری نظام کو مسترد کیا تھا، موجودہ بلدیاتی نظام کو نافذ کرنے میں پیپلز پارٹی کا جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی نے ساتھ دیا، شہر کے بلدیاتی نظام کی بربادی میں جماعت اسلامی برابر کی ذمہ دار ہے۔
علی خورشیدی نے کہا کہ شہر میں منشیات پینے والے میئر کراچی کو رٹ کو چلینچ کر رہیں ہیں، وفاق بھی کراچی کی بربادی کا ذمہ دار ہے، ملیر ایکسپریس وے کی خرابی کی نشاہدہی کرنے پر حکومت ناراض ہے، حب کینال اور ملیر ایکسپریس وے کی بربادی کہ تحقیقات ہونی چاہیے۔
صوبائی اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ حب کینال اور ملیر ایکپریس وے کے تعمیراتی کام کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ سندھ حکومت کے غیر جمہوری رویے کی مذمت کرتے ہیں، ملیر ایکسپریس وے کو نقصان پہنچنے پر ذمہ داروں کو پکڑا جائے، سوال کرنے پر حکومت ناراض ہو جاتی ہے، محکمہ نادار رشوت ستانی کے وزیر سے مطالبہ ہے کہ منصوبوں کی تاخیر اور نقصان پر تحقیق کرے۔
علی خورشیدی نے مزید کہا کہ مئیر کراچی اپنا قبلہ درست کریں، شہر کے حالات کی بہتری کے لیے صوبائی حکومت مدد کرے، تمام وزار دوروں پر نکلتے ہیں لیکن کرتے کچھ نہیں، موجودہ بلدیاتی نظام کی بہتری کے مل کر بیٹھیں، انتظامی طور پر شہر کا نظام مکمل تباہ ہو چکا ہے، ایم کیو ایم کے پاس بلدیاتی نظام کے حوالے سے پورا نظام موجود ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: علی خورشیدی نے بلدیاتی نظام نے کہا کہ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔