جنوبی وزیرستان میں 90 فیصد سرکاری اسکول بند
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
خیبر پختونخوا میں تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کے باوجود صوبے کے سرکاری اسکولوں کی حالت مسلسل ابتر ہوتی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تعلیمی نظام کو 4 دہائیاں دینے والی خیبرپختونخوا کی پہلی خاتون وائس چانسلر نورجہاں
ضلع جنوبی وزیرستان میں صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے جہاں 802 اسکولوں میں سے تقریباً 90 فیصد بند پڑے ہیں۔
شہری ان اسکولوں کی عمارتوں کو مویشیوں کے باڑوں میں تبدیل کر چکے ہیں جبکہ اکثر اسکول کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیے: خیبرپختونخوا: میٹرک امتحانات میں ناقص نتائج پر 15 اسکول پرنسپل معطل
اس سنگین صورتحال کے باعث ضلع کے بچوں اور بچیوں کا قیمتی وقت اور مستقبل ضائع ہو رہا ہے۔ دیکھیے سعید وزیر کی یہ ویڈیو رپورٹ۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جنوبی وزیرستان کے اسکول بند خیبرپختونخوا خیبرپختونخوا اسکول خیبرپختونخوا تعلیمی نظام کی بدحالی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جنوبی وزیرستان کے اسکول بند خیبرپختونخوا خیبرپختونخوا اسکول خیبرپختونخوا تعلیمی نظام کی بدحالی
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔