پاک بحریہ کی جانب سے پنجاب اور سندھ کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشنز جاری ہیں۔

سیلاب کی سنگین صورتحال کے پیشِ نظر، پاک بحریہ کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیم کو جلالپور، ملتان (پنجاب) میں تعینات کر دیا گیا ہے، جبکہ سندھ کے مختلف علاقے جن میں کشمور، گھوٹکی، سکھر اور شکارپور شامل ہیں، میں پہلے سے موجود ٹیمیں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں ہوورکرافٹ، ریسکیو بوٹس اور ماہر غوطہ خور ٹیموں سے لیس ہیں، تاکہ زیرِ آب علاقوں تک فوری رسائی حاصل کرکے ریسکیو اور امدادی کارروائیوں میں مدد فراہم کی جا سکے۔

مزید پڑھیں: پاک بحریہ کا بندرگاہوں پر خطرات سے نمٹنے کے لیے 2 روزہ مشقوں کا انعقاد

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 478 سیلاب زدہ افراد، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، کو مختلف متاثرہ علاقوں سے بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، سندھ میں اب تک ریسکیو کیے گئے افراد کی مجموعی تعداد 6,860 ہو گئی ہے۔

اس کے علاوہ متاثرہ آبادی کو مفت طبی سہولیات اور ضروری ادویات کی فراہمی بھی جاری ہے، تاکہ اس قدرتی آفت میں بروقت طبی امداد کو یقینی بنایا جا سکے۔

گڈو اور سکھر بیراج کے مقام پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کے باعث، پاک بحریہ ہائی الرٹ ہے اور سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

پاک بحریہ اس ہنگامی صورتحال میں قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور متاثرین کی مکمل بحالی تک ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بحریہ پنجاب سندھ سیلاب متاثرہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاک بحریہ سیلاب متاثرہ پاک بحریہ

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن