اسلام آباد: عراقی اعلیٰ سطحی وفد کا ایف آئی اے ہیڈکوارٹر اور اسلام آباد ایئرپورٹ کا دورہ، پاکستان کے جدید بارڈر مینجمنٹ سسٹمز پر بریفنگ
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
اسلام آباد(صغیر چوہدری )انٹرنیشنل سنٹر فار مائیگریشن پالیسی ڈویلپمنٹ (ICMPD) اور ڈنمارک باہمی تعاون سے چلنے والے “رائٹس بیسڈ بارڈر مینجمنٹ” منصوبے کے تحت
عراق کے اعلیٰ سطحی وفد نے ایف آئی اے ہیڈکوارٹر دورہ کیا۔ یہ دورہ سرحدی انتظامات کے شعبے میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس موقع پر وفد کو ایف آئی اے کے مینڈیٹ اور دائرہ کار پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وفد کو بتایا گیا کہ ایف آئی اے ملک کی مرکزی تحقیقاتی ایجنسی ہے جس کی ذمہ داریاں امیگریشن کنٹرول سے لے کر منظم جرائم کی روک تھام تک پھیلی ہوئی ہیں۔
دورے کے دوران وفد کو ایف آئی اے کے خصوصی یونٹس کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ رسک انالیسز یونٹ (RAU) میں ڈائریکٹر امیگریشن نے وفد کو انٹیلی جنس پر مبنی رسک مینجمنٹ کے حوالے سے پاکستان کی سرحدوں پر خطرات کی نشاندہی اور ان کے سدباب کے لئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وفد نے فرانزک لیبارٹری کا بھی دورہ کیا جہاں ڈائریکٹر فرانزک لیب اور ڈپٹی ڈائریکٹر نے وفد کو سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال، جعل سازی کی نشاندہی اور مقدمات کی تفتیش میں فرانزک لیب کے اہم کردار سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر وفد کو ایف آئی اے اکیڈمی کے کردار کے بارے میں بھی بتایا گیا جو عملے کی استعداد کار بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
پروگرام کے حصے کے طور پر عراقی وفد نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں ایف آئی اے کے جدید بارڈر کنٹرول سسٹمز کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ اس دوران وفد کو ائرپورٹ پر قائم کئے گئے سیکنڈ لائن بارڈر کنٹرول کے کام سے بھی روشناس کرایا گیا، جو جعلی سفری دستاویزات کی نشاندہی اور فرنٹ لائن افسران کی معاونت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔عراقی وفد نےکہا کہ اس دورے نے پاکستان کے جدید بارڈر مینجمنٹ کے طریقہ کار کے حوالے سے اہم معلومات فراہم کی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عراق اور پاکستان کی بارڈر مینجمنٹ ایجنسیز کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ وفد نے عراق اور پاکستان کے درمیان علم اور بہترین طریقہ کار کے تبادلے میں سہولت فراہم کرنے پر ICMPD کے کردار کو بھی سراہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایف آئی اے وفد نے وفد کو
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :