امریکا کی جی 7 ممالک اور یورپی یونین سے انڈیا پر مزید ٹیرف عائد کرنے کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
جی 7 ممالک کے وزرائے خزانہ نے جمعہ کے روز ایک ورچوئل اجلاس میں روس کے خلاف مزید پابندیوں اور ان ممالک پر ممکنہ محصولات لگانے پر تبادلہ خیال کیا جنہیں وہ یوکرین جنگ میں روس کا معاون سمجھتے ہیں۔
اس اجلاس کی صدارت کینیڈین وزیر خزانہ فرانسوا فلپ شامپین نے کی۔ اعلامیے کے مطابق وزرائے خزانہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ روس کے منجمد اثاثوں کو یوکرین کے دفاع کے لیے استعمال کرنے پر مذاکرات کو تیز کیا جائے۔ ساتھ ہی روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے مزید معاشی اقدامات، نئی پابندیاں اور تجارتی اقدامات جیسے کہ ان ممالک پر ٹیرف لگانے پر غور کیا گیا جو روس کی جنگی کوششوں کو تقویت دے رہے ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اجلاس میں کہا کہ اتحادی ممالک کو چاہیے کہ وہ امریکا کی طرح ان ممالک پر ٹیرف عائد کریں جو روسی تیل خرید رہے ہیں۔ ان کے مطابق صرف متحدہ کوشش کے ذریعے جس میں ہم روس کی آمدنی کے ذرائع کو بند کریں، ہی ہم اتنا معاشی دباؤ ڈال سکیں گے کہ یہ بے معنی قتل و غارت رک سکے۔
اسی روز امریکی محکمہ خزانہ کے ایک ترجمان نے جی 7 اور یورپی یونین اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ چین اور بھارت سے آنے والی اشیا پر اہم ٹیرف عائد کریں تاکہ ان ممالک کو روسی تیل کی خریداری روکنے پر مجبور کیا جا سکے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر پہلے ہی اضافی 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے، جس کے بعد بھارتی مصنوعات پر مجموعی محصولات کی شرح 50 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اقدام بھارت کو روسی خام تیل کی رعایتی خریداری روکنے پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا گیا، جس کے باعث دونوں جمہوریتوں کے درمیان تجارتی مذاکرات متاثر ہو گئے ہیں۔
اسی دوران، ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان کا روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے بارے میں صبر ختم ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے بینکوں اور تیل پر پابندیوں کو ممکنہ آپشن قرار دیا لیکن یہ بھی کہا کہ یورپی ممالک کو بھی ان اقدامات میں شامل ہونا ہوگا۔
ٹرمپ کے مطابق ہمیں بہت، بہت سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔
Post Views: 8.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز