ٹائلر رابنسن نے چارلی کرک کو کیوں مارا؟ قاتل کے اہل خانہ کا بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
امریکی قدامت پسند تجزیہ کار چارلی کرک کی ہلاکت کا معاملہ ملک بھر میں سنسنی مچا رہا ہے۔ مشتبہ قاتل ٹائلر رابنسن کے حوالے سے اہلِ خانہ اور حکام نے کچھ مؤقف پیش کیے ہیں، لیکن ابھی تک واضح محرک کا تعین نہیں ہو سکا۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ٹائلر رابنسن کو چارلی کرک کی شخصیت سے اختلاف تھا، وہ کہتے تھے کہ کرک نفرت پھیلاتا ہے۔
رابنسن نے مبینہ طور پر بندوقوں کا شوق رکھا تھا اور وہ گن کنٹرول اور ہجوم پر فائرنگ جیسے معاملات پر بات کرتے ہوئے مباحثے کرتا تھا۔
اس کے علاوہ اطلاعات ہیں کہ رابنسن نے سياسي نظریات پر زیادہ ملوث ہو کر کرک کے خیالات کی مخالفت کی تھی، خاص طور پر جن موضوعات پر کرک نے مختلف موقف اختیار کیا تھا۔
حکام کے مطابق موضوعِ جنس کی شناخت سے متعلق کرک کے خیالات نے ممکنہ طور پر طیارے مکالمہ کو بھڑکایا ہو۔
امریکی حکام نے محفوظ ذرائع سے کہا ہے کہ رابنسن نے ایک چھت سے گولی چلائی تھی، پھر فرار ہوا، اور بعد میں گرفتاری ہوئی۔
بندوق کی گولیوں پر شواہد بھی ملے ہیں جن پر مخصوص الفاظ اور ’میما‘ (memes) جیسی تحریریں تھیں، مثلاً "Hey fascist, catch" جیسی عبارتیں۔ یہ الفاظ سیاسی نزاع اور آن لائن ثقافتی تناؤ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
مقامی حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ابھی کوئی ایسا واضح محرک نہیں ملا جس پر پورا کیس کھڑا کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔