سیلاب متاثرین کو بجلی بلوں میں ریلیف کی درخواست پر آئی ایم ایف کا موقف آگیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
سیلاب متاثرین کو بجلی بلوں میں ریلیف کی درخواست پر آئی ایم ایف کا موقف آگیا WhatsAppFacebookTwitter 0 14 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)سیلاب متاثرین کو بلوں میں ریلیف اور کسان پیکج کی درخواست سے متعلق آئی ایم ایف کا موقف سامنے آگیا۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق مالیاتی ادارہ بجٹ اخراجات اور ایمرجنسی اقدامات کا جائزہ لے گا۔ سیلابی اخراجات نمٹانے کی گنجائش دیکھی جائے گی ۔ مشن 25 ستمبر سے پاکستان کا دورہ کرے گا۔
نمائندہ آئی ایم ایف جولیا کوزیک کا کہنا ہے کہ دیکھ رہے ہیں کیا پاکستان کا آئندہ بجٹ سیلاب سے نمٹنے کیلئے تیار ہے۔ نیا قرض تب ہی ملے گا جب پرانا پروگرام کامیابی سے چلے۔دوسری جانب پاکستان میں آئی ایم ایف کے نمائندے ماہر بنیسی کا کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف مشن بجٹ اور ہنگامی اخراجات کے جائزہ کیلئے رواں ماہ پاکستان آئے گا۔ آئی ایم ایف مشن رواں ماہ پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ بجٹ اور ہنگامی اخراجات کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔ ماہر بنیسی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مشن یہ بھی دیکھے گا کہ مالی سال 2025،26 کا بجٹ سیلابی اخراجات کے لیے لچکدار ہے یا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادارہ سیلاب سے ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کرتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپے در پے ناکامیاں، فتنہ الخوارج کے درمیان اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے پے در پے ناکامیاں، فتنہ الخوارج کے درمیان اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے آئی ایم ایف نے سیلاب سے پیدا ہونیوالی سنگین صورتحال کو سمجھ لیا ہے، وزیر خزانہ چیئرمین سی ڈی اے کی ہدایت پر پاک سیکریٹریٹ کی نئی پارکنگ کو عوام کیلئے کھول دیا گیا جمہوریت عوام کی طاقت اور ملک کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے, اسپیکر سردار ایاز صادق محکمہ موسمیات کی ملک بھر میں مزید بارشوں کی پیشگوئی فتنۃ الخوارج کی بڑھتی پریشانی اور خارجی سرغنہ کے ہولناک انکشافات منظرِ عام پرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔