سیلاب متاثرین ریلیف پیکج، وزیراعظم کا گھریلو صارفین کے ایک ماہ کے بجلی بل معاف کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
سیلاب متاثرین ریلیف پیکج، وزیراعظم کا گھریلو صارفین کے ایک ماہ کے بجلی بل معاف کرنے کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 14 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب متاثرین کیلیے خصوصی ریلیف پیکج کا اعلان کرتے ہوئے گھریلو صارفین کیلیے اگست کے مہینے کے بل معاف کرنے کا اعلان کردیا۔
قوم سے اپنے مختصر اور اہم بیان میں وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں ہمیں سیلاب متاثرین کی مشکلات کا پورا اندازہ ہے، اس میں بجلی کے بلوں کی ادائیگی وفاقی حکومت اپنے وسائل سے کرے گی۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی کوئی احسان نہیں بلکہ یہ سیلاب متاثرین کا حق ہے، جو گھریلو صارفین جو اگست کا بل ادا کرچکے ہیں انہیں یہ رقم اگلے ماہ کے بل میں واپس کردی جائے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ اس حوالے سے واضح ہدایات جاری کردی گئیں ہیں، اس کے علاوہ متاثرہ علاقوں میں زرعی، کمرشل اور صنعتی شعبوں سے وابستہ بجلی کے بلوں کا تفصیلی تخمینہ لگایا جارہا ہے جبکہ ان کے بلوں کی وصولی فی الفور موخر کی جارہی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ اگر مذکورہ بالا شعبوں کا تخمینہ زیادہ نکلتا ہے تو پھر حکومت انہیں مزید ریلیف دینے کے حوالے سے مزید اقدامات کرے گی۔ وزیراعظم نے کاہ کہ متعلقہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو ضروری ہدایات فوری طور پر جاری کردی گئیں ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی تباہی اور نقصانات وہاں لوگ کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں،اس صورت حال کے پیش نظر خادم پاکستان کی طرف سے یہ ایک حقیر سی کوشش ہے جو متاثرین کی پریشانی میں کمی کا باعث بنے گی، سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی مکمل آبادکاری کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم سب اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک سیلاب سے متاثرہ ہرشخص کو دوبارہ آباد نہ کرلیں، اللہ تعالی ہماری مدد فرمائے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروفاقی حکومت سیلاب متاثرین کیلئے جلد اقوام متحدہ سے امداد کی اپیل کرے، وزیر اعلی سندھ وفاقی حکومت سیلاب متاثرین کیلئے جلد اقوام متحدہ سے امداد کی اپیل کرے، وزیر اعلی سندھ ایچ پی وی ویکسی نیشن کیلئے سرکاری، نجی گرلز اسکولز اور مدارس کی لسٹ فائنل صدر مملکت کا جے 10سی طیارے بنانے والے ایئرکرافٹ کمپلیکس کا تاریخی دورہ بوریوالا میں بارات سیلابی ریلے میں پھنس گئی، ریسکیو ٹیم نے محفوظ مقام پر منتقل کیا امریکا کی جانب سے پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے معاونت کی فراہمی راول ڈیم میں پانی کی سطح بلند ہونے پر اسپل ویز کھول دیے گئےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سیلاب متاثرین کی گھریلو صارفین نے کہا کہ کا اعلان کے بلوں
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔