احمد شاہ کے چھوٹے بھائی عمر شاہ انتقال کرگئے
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
پاکستان کے مشہور ننھے اسٹار احمد شاہ کے چھوٹے بھائی عُمر شاہ انتقال کر گئے ہیں۔
یہ افسوسناک خبر احمد شاہ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری کی گئی، جہاں انہوں نے مداحوں سے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی درخواست کی۔
’ہمارے خاندان کا ننھا چمکتا ستارہ اُمر شاہ خالقِ حقیقی سے جا ملا۔‘
View this post on Instagram
A post shared by Peer Ahmad Shah (@cuteahmadshah01)
تاحال عُمر شاہ کے انتقال کی وجہ اور دیگر تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
یاد رہے کہ عمر شاہ اپنی معصوم مسکراہٹ، پیارے انداز اور شرارتی طبیعت کی وجہ سے مداحوں میں بے حد مقبول تھے اور اکثر اپنے بڑے بھائی احمد شاہ کے ساتھ ویڈیوز اور ٹی وی شوز میں نظر آتے تھے۔
ان کی اچانک وفات کی خبر نے نہ صرف احمد شاہ اور ان کے خاندان بلکہ ان کے لاکھوں چاہنے والوں کو بھی گہرے صدمے اور دکھ میں مبتلا کر دیا ہے۔
اہلِ خانہ نے تمام احباب سے درخواست کی ہے کہ عُمر شاہ کی مغفرت اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کریں۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: احمد شاہ کے مر شاہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔