احمد شاہ کے چھوٹے بھائی عمر شاہ انتقال کرگئے
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
پاکستان کے مشہور ننھے اسٹار احمد شاہ کے چھوٹے بھائی عُمر شاہ انتقال کر گئے ہیں۔
یہ افسوسناک خبر احمد شاہ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری کی گئی، جہاں انہوں نے مداحوں سے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی درخواست کی۔
’ہمارے خاندان کا ننھا چمکتا ستارہ اُمر شاہ خالقِ حقیقی سے جا ملا۔‘
View this post on Instagram
A post shared by Peer Ahmad Shah (@cuteahmadshah01)
تاحال عُمر شاہ کے انتقال کی وجہ اور دیگر تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
یاد رہے کہ عمر شاہ اپنی معصوم مسکراہٹ، پیارے انداز اور شرارتی طبیعت کی وجہ سے مداحوں میں بے حد مقبول تھے اور اکثر اپنے بڑے بھائی احمد شاہ کے ساتھ ویڈیوز اور ٹی وی شوز میں نظر آتے تھے۔
ان کی اچانک وفات کی خبر نے نہ صرف احمد شاہ اور ان کے خاندان بلکہ ان کے لاکھوں چاہنے والوں کو بھی گہرے صدمے اور دکھ میں مبتلا کر دیا ہے۔
اہلِ خانہ نے تمام احباب سے درخواست کی ہے کہ عُمر شاہ کی مغفرت اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کریں۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: احمد شاہ کے مر شاہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :